MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کتی شعاعیں پھوٹی ہیں آکر تلاش کر

کتی شعاعیں پھوٹی ہیں آکر تلاش کر
میرے بدن میں دھوپ کے منظر تلاش کر

بادِ صبا کی ٹہنی پہ زخموں کی شکل میں
یادوں کےسُرخ سُرخ گُلِ تر تلاش کر

جس کی غزل میں میر کی طرزِ سُخن ملے
شہرِ سُخن میں ایسے سُخنور تلاش کر

وہ گمشدہ جزیرہ کہیں مل ہی جاٸے گا
آنکھوں میں بوند بوند سمندر تلاش کر

سورج ملے گا برف ے قاشوں کےدرمیاں
شفاف وادیوں میں أتر کر تلاش کر

آندھی أڑا کے لے گٸی آخر أسے کہاں
دیوار و در تو رہ گٸے چھپر تلاش کر

سورج نے کر لی خود کشی نیّربوقتِ شام
اب جگنوٶں کو شب کے شجر پر تلاش کر

نیر صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم