MOJ E SUKHAN

نہ شب کی بات، نہ ھم سے سَحر کی بات کرو

Na Shab Ki baat Na Ham say sahar ki baat karoo

غزل

نہ شب کی بات، نہ ھم سے سَحر کی بات کرو
جو ختم ھوتا نہیں، اُس سفر کی بات کرو

کوئی تو بات اسِیرو ھو، دل بہلنے کی
قفس کی بات نہیں، اپنے گھر کی بات کرو

جو لڑ رھا ھے، ھواؤں کے تُند جھونکوں سے
اسی چراغِ سرِ رہ گذر کی بات کرو

چمن میں بے سبب، آتی نہیں بہار کبھی
گلوں کے سائے میں، خونِ جگر کی بات کرو

قُبولیت کی علامت، نظر تو آئے کوئی
دُعا کے بعد، دُعا کے اثر کی بات کرو

تمام شہر میں، جس نے مچائی ھے ھلچل
میں چاھتا ھوں اُسی، فتنہ گر کی بات کرو

بچھادیے ھیں ستارے زمین پر، جس نے
کرو تو یار اسی، چشمِ تر کی بات کرو

پڑی عجیب سی، یہ بات مجھ کو لگتی ھے
جو کور چشم ھیں، ان سے نظر کی بات کرو

نظر، جو عشق و محبت کا استعارہ ھے
نظر نظر سے ملاؤ، نظر کی بات کرو

نظر فاطمی

Nazar Fatmi

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم