MOJ E SUKHAN

ہرے درخت کا شاخوں سے رشتہ ٹوٹ گیا

ہرے درخت کا شاخوں سے رشتہ ٹوٹ گیا
ہوا چلی تو گلابوں سے رشتہ ٹوٹ گیا

کہاں ہیں اب وہ مہکتے ہوئے حسیں منظر
کھلی جو آنکھ تو خوابوں سے رشتہ ٹوٹ گیا

ذرا سی دیر میں بیمار غم ہوا رخصت
پلک جھپکتے ہی لوگوں سے رشتہ ٹوٹ گیا

گلاب تتلی دھنک روشنی کرن جگنو
ہر ایک شے کا نگاہوں سے رشتہ ٹوٹ گیا

اٹھی جو صحن میں دیوار اختلاف بڑھے
زمیں کے واسطے اپنوں سے رشتہ ٹوٹ گیا

کتاب زیست کا ہر صفحہ سادہ ہے نیرؔ
قلم کی نوک کا لفظوں سے رشتہ ٹوٹ گیا

اظہر نئیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم