MOJ E SUKHAN

سر بسر پیکر اظہار میں لاتا ہے مجھے

غزل

سر بسر پیکر اظہار میں لاتا ہے مجھے
اور پھر خود ہی تہ خاک چھپاتا ہے مجھے

کب سے سنتا ہوں وہی ایک صدائے خاموش
کوئی تو ہے جو بلندی سے بلاتا ہے مجھے

رات آنکھوں میں مری گرد سیہ ڈال کے وہ
فرش بے خوابئ وحشت پہ سلاتا ہے مجھے

گم شدہ میں ہوں تو ہر سمت بھی گم ہے مجھ میں
دیکھتا ہوں وہ کدھر ڈھونڈنے جاتا ہے مجھے

دیدنی ہے یہ توجہ بھی بہ انداز ستم
عمر بھر شیشۂ خالی سے پلاتا ہے مجھے

ہمہ اندیشۂ گرداب بہ پہلوئے نشاط
موج در موج ہی ساحل نظر آتا ہے مجھے

احمد محفوظ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم