MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

پھر ایک دوسری ہجرت نہیں زمین نہیں

غزل

پھر ایک دوسری ہجرت نہیں زمین نہیں
یہ میری مملکت درد مجھ سے چھین نہیں

نواح یاد کی دل نے مسافرت چھوڑی
کہ ایک شخص بھی اس کنج کا مکین نہیں

غبار بستہ ستاروں سے بھر چکا آنکھیں
وہ قافلہ، کہ کسی صبح کا امین نہیں

میں تیرے ہدیۂ فرقت پہ کیسے نازاں ہوں
مری جبیں پہ ترا زخم تک حسین نہیں

سفر میں ہوں کہ نہیں سوچتا رہوں گا عرشؔ
زمیں زمان نہیں اور زماں زمین نہیں

آکاش عرش

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم