MOJ E SUKHAN

ہمارا بس نہیں چلتا کہ اب یہ کام کریں

ہمارا بس نہیں چلتا کہ اب یہ کام کریں
تمہارے ساتھ محبت برائے نام کریں۔

تو میں خرید کے بھیجوں گی اپنے پیاروں کو
یہ تاجران اگر کم خوشی کے دام کریں

تمہیں بتا رہی ہوں اب محل میں آئے تو
سلوک جیسا بھی چاہیں مرے غلام کریں

بس ایک بار نظر آئے وہ بہار سا شخص
صدائیں پیڑ لگائیں ، یہ گل کلام کریں

بدل بھی سکتے ہیں ہم اسکی کیمیائی ساخت
اگر ذرا سا اداسی پہ اور کام کریں

یہ بے ثمر سے شجر کاٹ دیں ابھی کے ابھی
یہ بے وصال رفاقت یہیں تمام کریں

بدن اتار کے رکھ آئیں جوتیوں کی جگہ
یہ بارگاہِ محبت ہے ، احترام کریں۔۔

کومل جوئیہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم