اُس کا خیال دل سے، اترنے کے بعد بھی
بڑھتا گیا ہے درد، سنبھلنے کے بعد بھی
ترکِ تعلقات، تھا گر میرا فیصلہ
وہ کیوں ہے، میرے ساتھ بچھڑنے کے بعد بھی
ہے اُس کا، لَمس میری، ہتھیلی پہ اَب تلک
ہاتھوں سے ،اس کا ہاتھ، نکلنے کے بعد بھی
حوّا کو، تو خدا نے، بنایا تھا اس لیے
کچھ کم تھا، کائنات کے بننے کے بعد بھی
لگتی ہے، میری زیست، بھی مشکل سا اک سوال
اور پھر جواب دینا ہے مرنے کے بعد بھی
دلبر کی، یہ ادا تو، عطائے نصیب ہے
اب وہ بگڑ رہا ہے، سنورنے کے بعد بھی
شمسؔہ میں، اپنی ذات، کے بارے میں کیا کہوں
یہ تو نکھر رہی ہے، بکھرنے کے بعد بھی
شمسہ نجم