MOJ E SUKHAN

چراغ گل تھے زمیں کی گردش ٹھہر رہی تھی

غزل

چراغ گل تھے زمیں کی گردش ٹھہر رہی تھی
میں تیرے ہم راہ باغ جاں سے گزر رہی تھی

طلوع ہو کر تری جبیں نے کہا کہ آؤ
میں پاؤں رکھتے ہوئے ستاروں پہ ڈر رہی تھی

تمہارے بازو پہ سبز تعویذ کھل رہا تھا
مری محبت پہ آیت دل اتر رہی تھی

کسے خبر تھی یہ اہتمام وصال نو ہے
میں ہجر کی شب شکستگی میں سنور رہی تھی

کہ روشنی کا رسیلا رس تھے تمام منظر
میں اپنی آنکھیں تمہاری آنکھوں سے بھر رہی تھی

ابھی ابھی تو دھنک کے نم نے چھوا تھا مجھ کو
ابھی ابھی تو میں نیند میں بات کر رہی تھی

وہ عشق کا آخری پڑاؤ وہ دل کا تھکنا
میں ہجر زادی تھی اور خود سے گزر رہی تھی

صائمہ زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم