غزل
چراغ گل تھے زمیں کی گردش ٹھہر رہی تھی
میں تیرے ہم راہ باغ جاں سے گزر رہی تھی
طلوع ہو کر تری جبیں نے کہا کہ آؤ
میں پاؤں رکھتے ہوئے ستاروں پہ ڈر رہی تھی
تمہارے بازو پہ سبز تعویذ کھل رہا تھا
مری محبت پہ آیت دل اتر رہی تھی
کسے خبر تھی یہ اہتمام وصال نو ہے
میں ہجر کی شب شکستگی میں سنور رہی تھی
کہ روشنی کا رسیلا رس تھے تمام منظر
میں اپنی آنکھیں تمہاری آنکھوں سے بھر رہی تھی
ابھی ابھی تو دھنک کے نم نے چھوا تھا مجھ کو
ابھی ابھی تو میں نیند میں بات کر رہی تھی
وہ عشق کا آخری پڑاؤ وہ دل کا تھکنا
میں ہجر زادی تھی اور خود سے گزر رہی تھی
صائمہ زیدی