MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

انداز نرالا ہے ادا اور ہی کچھ ہے

غزل

انداز نرالا ہے ادا اور ہی کچھ ہے
یہ حسن نہیں نام خدا اور ہی کچھ ہے

کہتے ہو ہم اب غیر کو آنے نہیں دیتے
یا رب یہی سچ ہو پہ سنا اور ہی کچھ ہے

پردہ نہ رکھا تیرے لب روح فزا نے
ہم جانتے تھے آب بقا اور ہی کچھ ہے

جو میں نے کہا تھا وہ بگڑنے کی نہ تھی بات
کہتا ہوں کہ قاصد نے کہا اور ہی کچھ ہے

ہمدم یہی جاناں کی جدائی کا ہے رونا
کہتے ہیں جسے مرگ وہ کیا اور ہی کچھ ہے

عیسیٰ سے کہو مردۂ صد سالہ جلا لیں
بیمار محبت کی دوا اور ہی کچھ ہے

فرہاد ہوس پیشہ نے بھی دی تو سہی جان
پر شیوۂ ارباب وفا اور ہی کچھ ہے

تم حسن کی خیرات میں کیا دیتے ہو لاؤ
ہر چند تمنائے گدا اور ہی کچھ ہے

ہم زہد و عبادت کے بھی منکر نہیں ناظمؔ
پر قاعدۂ فقر و فنا اور ہی کچھ ہے

نواب یوسف علی خاں ناظم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم