MOJ E SUKHAN

پھر شیطانوں کی فطرت نے مجبور کیا انسانوں کو

غزل

پھر شیطانوں کی فطرت نے مجبور کیا انسانوں کو
پھر انسانوں کی بستی سے محروم کریں شیطانوں کو

کاشانوں میں رہنے والے آباد کریں ویرانوں کو
یہ دیوانے ہیں دیوانے کیا کہتے ہیں دیوانوں کو

الحاد کی ظلمت دور ہوئی ایمان کی شمعوں سے کہہ دو
تجدید محبت بھی ہوگی آواز تو دو پروانوں کو

برباد تمنائیں لٹ پٹ کر دل میں آنے والی ہیں
محتاط رہیں دل والے بھی تکلیف نہ ہو مہمانوں کو

کلیوں پہ جوانی کا آنا آغاز قیامت ہوتا ہے
توہین جنوں اس موسم میں منظور نہیں دیوانوں کو

تعریف نہیں فطرت اس کو ایمان کی قوت کہتی ہے
اک مرد مجاہد کا نعرہ تڑپا تو گیا سلطانوں کو

دریا میں ہماری کشتی کو طوفان کا خطرہ نا ممکن
دراصل بچانے والے ہیں طوفانوں سے طوفانوں کو

پھر عرش معلی سے زیدیؔ تلوار عطا کی قدرت نے
دنیا میدان ہمارا ہے یہ کون کہے نادانوں کو

ابوالفطرت میر زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم