MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اب دوستوں میں خوئے رفاقت نہیں رہی

اب دوستوں میں خوئے رفاقت نہیں رہی
کیا جان دیجئے کہ روایت نہیں رہی

مقبول ہو رہا ہے دل آزاریوں کا فن
اب رسمِ اعترافِ ندامت نہیں رہی

بیگانگی کو آنکھ کا پردہ بنا لیا
لوگوں کو آشنائی کی حاجت نہیں رہی

کرنے لگے ہیں بخل بڑے بھی دعاؤں میں
بچوں کو بھی سلام کی عادت نہیں رہی

لکھوا رہے ہیں لوگ غزل قیمتاَ یہاں
سچے سخن کی اب کوئی حرمت نہیں رہی

جب سے نہیں ہے اس میں محبت مرے لیے
مجھ کو بھی اس نگاہ سے نسبت نہیں رہی

ویران ہو گیا وہ دریچہ تو ہم کو بھی
گملوں کے گیلری کے وہ رغبت نہیں رہی

سلمان صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم