MOJ E SUKHAN

دل غم سے بھی بیزار ہے معلوم نہیں کیوں

غزل

دل غم سے بھی بیزار ہے معلوم نہیں کیوں
یہ عیش بھی اب یار ہے معلوم نہیں کیوں

عالم ہمہ دل دار ہے معلوم نہیں کیوں
جو غم ہے غم یار ہے معلوم نہیں کیوں

اب حسن بھی کچھ سامنے آنے میں ہے محتاط
اب عشق بھی خوددار ہے معلوم نہیں کیوں

وہ عشق جو ہر جلوۂ رنگیں پہ فدا ہے
خود اپنا طلب گار ہے معلوم نہیں کیوں

کچھ روز سے وہ کیفؔ جو اک گوشہ نشیں تھا
رسوا سر بازار ہے معلوم نہیں کیوں

کیف مرادآبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم