MOJ E SUKHAN

چھوڑو اب اس چراغ کا چرچا بہت ہوا

غزل

چھوڑو اب اس چراغ کا چرچا بہت ہوا
اپنا تو سب کے ہاتھوں خسارہ بہت ہوا

کیا بے سبب کسی سے کہیں اوبتے ہیں لوگ
باور کرو کہ ذکر تمہارا بہت ہوا

بیٹھے رہے کہ تیز بہت تھی ہوائے شوق
دشت ہوس کا گرچہ ارادہ بہت ہوا

آخر کو اٹھ گئے تھے جو اک بات کہہ کے ہم
سنتے ہیں پھر اسی کا اعادہ بہت ہوا

ملنے دیا نہ اس سے ہمیں جس خیال نے
سوچا تو اس خیال سے صدمہ بہت ہوا

اچھا تو اب سفر ہو کسی اور سمت میں
یہ روز و شب کا جاگنا سونا بہت ہوا

احمد محفوظ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم