MOJ E SUKHAN

کیوں آنکھ سے سرخی اب چھلکی ہوئی لگتی ہے

غزل

کیوں آنکھ سے سرخی اب چھلکی ہوئی لگتی ہے
یہ نیند کی رانی بھی روٹھی ہوئی لگتی ہے

یادوں کا تسلسل ہے گھنگھور جدائی ہے
ساون کی طرح یہ بھی چھائی ہوئی لگتی ہے

سوجھے نہ مداوا کیوں خود میرے مسیحا کو
زخموں کی طرح چاہت رستی ہوئی لگتی ہے

آواز یہ کس نے دی پھر یاد یہ کون آیا
بے تابئ دل کچھ کچھ سنبھلی ہوئی لگتی ہے

گزری ہے گلابوں کو دامن میں خزاں بھر کے
ہر شاخ چمن لیکن مہکی ہوئی لگتی ہے

بازار محبت کے تاجر ہیں ستم پیشہ
اے بانوؔ تری قیمت لگتی ہوئی لگتی ہے

بانو صائمہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم