MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

فکر جھلساتی مجسم آگ ہے

فکر جھلساتی مجسم آگ ہے
یہ محبت ہے کہ پیہم آگ ہے

چڑھ گیا منصور ہنس کر دار پر
اور کہا اس نے یہ سرگم آگ ہے

ہم نے دریا برد کی خاکِ جنوں
سچ کہا تو نے کہ یہ غم آگ ہے

جل گیا جب طور موسی نے کہا
اے خدا! تیرا یہ مرہم آگ ہے؟

کیا بیگاژے گی یہ آتش اب مرا
یہ براہیموں کی ہمدم اگ ہے

نا۔سمجھ تو جھانک من مندر کبھی
تو مسلماں ہے کہ مبہم اگ ہے

جب سے میں نے کلمہ حق پژھ لیا
جل گیا باطل یہ اعظم اگ ہے

جوڑ رکھا ہے جو تو نے اے بشر
یہ زر و دینار و درہم آگ ہے

مہوش اشرف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم