MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کیا خبر تھی دوستو یہ حادثہ ہو جائے گا

کیا خبر تھی دوستو یہ حادثہ ہو جائے گا
میرے دل کو توڑ کر وہ غیر کا ہو جائے گا

جان سے زیادہ جسے چاہا تھا میں نے دوستو
یہ نہیں سوچا تھا وہ پل میں جدا ہو جائے گا

پیار تو کر لو مگر اے دوستو یہ جان لو
دیکھتے ہی دیکھتے وہ بے وفا ہو جائے گا

چاہیں جتنا پوجھ لو لیکن حقیقت ہے یہی
راہ کا پتّھر بھلا کیسے خدا ہو جائے گا

کون دشمن ہے وفا کا کون ہے جانِ وفا
آج لو اس بات کا بھی فیصلہ ہو جائے گا

اپنے مولا پر بھروسہ کیجیے اے دوستو
چل پڑوگے تم جدھر خود راستہ ہو جائے گا

اب خدا کے واسطے نہ عشق کا چرچہ کرو
زخم پھر وشمہ کوئی دل کا ہرا ہو جائے گا

وشمہ خان وشمہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم