MOJ E SUKHAN

کوئی وظیفہ مجھے بھی بتا مرے درویش

غزل

کوئی وظیفہ مجھے بھی بتا مرے درویش
تجھے ہوئی ہے فقیری عطا مرے درویش

مری خطا تو بس اتنی ہے اس تعلق میں
یہی کہ ہونی کو ہونے دیا مرے درویش

اسے میں پیار محبت کا نام کیسے دوں
یہ اور طرح کا ہے تجربہ مرے درویش

کہ جس نے باندھ دیا تیری ذات سے مجھ کو
یہ روح کا ہے کوئی سلسلہ مرے درویش

ہر ایک سانس جڑی ہے تری رضا کے ساتھ
تو کیا یہی ہے مکمل وفا مرے درویش

تو زندگی کا ستارہ بھی استعارہ بھی
مرے لئے تو ہے سورج نما میرے درویش

یہ تیرا عشق مہکتا ہے رات دن مجھ میں
کہ اور کچھ نہیں مجھ میں نیا مرے درویش

کہ اب وجود سے موجود سے نہیں ہے غرض

ہے لاوجود کی مجھ میں صدا مرے درویش

ناہید ورک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم