غزل
دشت احساس میں ہم اتنے اکیلے کب تھے
دکھ تو پہلے بھی تھے پر اتنے گھنیرے کب تھے
ہم تو نکلے تھے ہواؤں کا مقدر لے کر
ہم کسی موڑ پہ دم لینے کو ٹھہرے کب تھے
جیسے انجان کوئی جیسے کوئی بیگانہ
خود سے کترا کے ہم ایسے بھی نکلتے کب تھے
بغض کی دھوپ سے ہم بھاگ کے جاتے تو کہاں
شہر احباب میں وا دل کے دریچے کب تھے
ہر طرف شاخوں پہ لٹکی تھی صباؔ خاموشی
رات کے پیڑ میں آواز کے جھولے کب تھے
صبا اکرام