MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

میں جانتا ہوں اگر موت درمیان نہ ہو

غزل

میں جانتا ہوں اگر موت درمیان نہ ہو
خدا کے نام کی کعبے میں بھی اذان نہ ہو

اگر یقیں ہو کہ اب بے نشاں نہیں ہونا
کسی جبیں پہ کسی فرض کا نشان نہ ہو

برائے آدمی قائم ہے دفتر افلاک
جو وہ نہ ہو تو ستاروں کا خاندان نہ ہو

ہے آسمان فرشتوں کی سرزمین اگر
تو پھر زمین کہیں ان کا آسمان نہ ہو

اسی کی ذات پہ کھلتی ہے ذات سورج کی
کہ جس کا دھوپ کے محشر میں سائبان نہ ہو

محل بہشت میں ہونے کا کیا یہ مطلب ہے
کہ میرے شہر میں میرا کوئی مکان نہ ہو

خدا کے منکرو بتلاؤ کیا یہ ممکن ہے
کہ سرخ اونٹ ہوں اور ان کا ساربان نہ ہو

یہ سوچ کر ہیں پریشان قصہ گو واصفؔ
جو داستان ہے آدم کی داستان نہ ہو

جبار واصف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم