غزل
زندگی کا طے سفر کرنا ہے حیرانی کے ساتھ
زندگی کیونکہ ملی ہے مجھ کو آسانی کے ساتھ
زندگی کیا ہے جو دل ہو تشنۂ ذوق فنا
یعنی یہ پردہ تو اٹھ سکتا ہے آسانی کے ساتھ
گفتگوئے صورت و معنی ہے عنوان حیات
کھیلتے ہیں وہ مری فطرت کی حیرانی کے ساتھ
ہم نے ہر ذرہ میں برپا کر دیا طوفان شوق
اک تبسم اس قدر جلووں کی طغیانی کے ساتھ
اپنی آہوں میں دبا کر آج کل ہم سسکیاں
کچھ تو ہے جو کھیلتے ہیں کھیل دل پانی کے ساتھ
دل کی آبادی ہے اخترؔ دل کی بربادی کا نام
اک تعلق ہے مری ہستی کو ویرانی کے ساتھ
اختر علی گڑھی