MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کٹی پہاڑ سی شب انتظار کرتے ہوئے

کٹی پہاڑ سی شب انتظار کرتے ہوئے
ہوئی تمام سحر آہ سرد بھرتے ہوئے

تھے اس کے ہاتھ لہو میں ہمارے غرق مگر
ذرا بھی شرم نہ آئی اسے مکرتے ہوئے

ہوا چلی تو پریشاں ہوئے شجر اوراق
مگر نہ تھے وہ ہماری طرح بکھرتے ہوئے

کبھی ادھر سے جو گزریں تو یاد آتا ہے یہ
کہ اس کو دیکھتا تھا اس راہ سے گزرتے ہوئے

ہمیشہ سوچ میں ڈوبا ہوا وہ ہم کو ملا
کبھی تو دیکھتے فرخؔ کو ہم ابھرتے ہوئے

فرخ جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم