MOJ E SUKHAN

ہم شب غم جو اشک بار رہے

غزل

ہم شب غم جو اشک بار رہے
چاند تارے بھی بیقرار رہے

کون منت کش بہار رہے
ہاں یہ ویرانہ سازگار رہے

وہ ہی تسکین کا سہارا تھے
میں نے مانا کہ غم ہزار رہے

کبھی گلشن کبھی بیاباں میں
ہم بہ ہر حال بے قرار رہے

ان کو راحت کی آرزو نہ ہوئی
جو ترے غم سے ہمکنار رہے

وہ پشیماں نہیں جفا کر کے
ہم وفا کر کے شرمسار رہے

بسمل آغائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم