MOJ E SUKHAN

اب زیست مرے امکان میں ہے

اب زیست مرے امکان میں ہے
وہ لمحہ لمحہ دھیان میں ہے

کچھ پھول تھے وہ بھی سوکھ گئے
اک حسرت سی گلدان میں ہے

اک تانتا سوچ نے باندھا تھا
اب چہرہ روشندان میں ہے

دل ڈوبا پہلے غربت میں
اب پانی کچے مکان میں ہے

وہ معرکۂ دل جیت کے بھی
پھر تنہا دل میدان میں ہے

ہے دشمن مرے تعاقب میں
اور آخری تیر کمان میں ہے

راشد نور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم