MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

گردش دوراں سے اک لمحہ چرانے کے لیے

غزل

گردش دوراں سے اک لمحہ چرانے کے لیے
سوچنا پڑتا ہے کتنا مسکرانے کے لئے

کتنی زحمت جھیلتا ہے ایک مفلس میزبان
گھر کی بد حالی کو مہماں سے چھپانے کے لئے

بھوک ان کو لے گئی ہے کارخانوں کی طرف
گھر سے بچے نکلے تھے اسکول جانے کے لئے

خون اپنا بیچ کر آیا ہے اک مجبور باپ
بیٹیوں کے ہاتھ پر مہندی لگانے کے لئے

زندگی جلتی ہے کتنی دوزخوں کی آگ میں
چار دیواروں کی اک جنت بنانے کے لئے

ہائے تہواروں نے لوگوں کو بھکاری کر دیا
قرض لینا پڑتا ہے خوشیاں منانے کے لئے

ہو رہے ہیں آج دانہ آندھیوں میں مشورے
صرف میرے گھر کا اک دیپک بجھانے کے لئے

عباس دانا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم