MOJ E SUKHAN

اک غم کی کہانی ہے اوراق شکستہ پر

غزل

اک غم کی کہانی ہے اوراق شکستہ پر
اور دل کی زبانی ہے اوراق شکستہ پر

حال اپنا سنانا ہے اشعار کی صورت میں
یہ عمر گنوانی ہے اوراق شکستہ پر

تحریر پہ دھبوں کی صورت جو منقش ہے
وہ آنکھوں کا پانی ہے اوراق شکستہ پر

رکنا بھی اگر چاہوں مجھ سے نہ رکا جائے
یہ کیسی روانی ہے اوراق شکستہ پر

طاہرؔ مری آنکھوں میں پوشیدہ رہی ہے جو
مورت وہ بنانی ہے اوراق شکستہ پر

طاہر حنفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم