MOJ E SUKHAN

اپنی چاہت کا رنگ جدا رکھنا

غزل

اپنی چاہت کا رنگ جدا رکھنا
کچھ خرد سے بھی رابطہ رکھنا
دوریوں میں بھی قربتوں کیطرح
نہیں لب پر کوئی گلہ رکھنا
خود سے گر انتقام لینا ہے
عشق  کرنے کا سلسلہ رکھنا
جانے کس راہ سے وہ آجائے
دل کا ہر راستہ  سجا رکھنا
خود پرستوں کے درمیاں رہ کر
کھل کے جینے کا حوصلہ رکھنا
جب کبھی خود سے ہم کلامی ہو
اپنے عیبوں کا در کھلا رکھنا
صوفیہ اس جہاں سے جاتے ہوئے
سنگ دعاؤں کا قافلہ رکھنا
صوفیہ حامد خان
Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم