MOJ E SUKHAN

میں جنہیں فریب سمجھوں تری یاد مہرباں کے

غزل

میں جنہیں فریب سمجھوں تری یاد مہرباں کے
وہ چراغ بجھ گئے ہیں مری عمر جاوداں کے

نہ یہ لالہ زار اپنے نہ یہ رہ گزار اپنی
وہی گھر زمیں کے نیچے وہی خواب آسماں کے

یہ پیالہ ہے کہ دل ہے یہ شراب ہے کہ جاں ہے
یہ درخت ہیں کہ سائے کسی دست مہرباں کے

مجھے یاد آ رہے ہیں وہ چراغ جن کے سائے
کبھی دوستوں کے چہرے کبھی داغ رفتگاں کے

قمر جمیل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم