MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ایک پتھر کہ دست یار میں ہے

غزل ایک پتھر کہ دست یار میں ہے پھول بننے کے انتظار میں ہے اپنی ناکامیوں پہ آخر کار مسکرانا تو اختیار میں ہے ہم ستاروں کی طرح ڈوب گئے دن قیامت کے انتظار میں ہے اپنی تصویر کھینچتا ہوں میں اور آئینہ انتظار میں ہے کچھ ستارے ہیں اور ہم ہیں جمیلؔ روشنی جن […]

ایک پتھر کہ دست یار میں ہے Read More »

اگر سب سچ کے متوالے ہوئے ہیں

غزل اگر سب سچ کے متوالے ہوئے ہیں زباں پر قفل کیوں ڈالے ہوئے ہیں سنا ہے چوریاں ہو جائیں گی بند کہ اب رہزن ہی رکھوالے ہوئے ہیں غبار آلود ہے فصل بہاراں گل خوش رنگ مٹیالے ہوئے ہیں اک انجانا سا ڈر ہے دل پہ طاری کہ دشمن اب تو گھر والے ہوئے

اگر سب سچ کے متوالے ہوئے ہیں Read More »

کبھی روزنوں سے پکارنا کبھی در کے چاک سے دیکھنا

غزل کبھی روزنوں سے پکارنا کبھی در کے چاک سے دیکھنا سر بزم اس کا کبھی مجھے بڑے انہماک سے دیکھنا اگر اس کے حسن و جمال کا چھڑے تذکرہ کبھی بزم میں تو پھر اس کے رخ پہ حجاب کے کئی رنگ پاک سے دیکھنا یہ مرا اصول غلط سہی مری زندگی کی اساس

کبھی روزنوں سے پکارنا کبھی در کے چاک سے دیکھنا Read More »

ہر ایک گام پہ اک بت بنانا چاہا ہے

غزل ہر ایک گام پہ اک بت بنانا چاہا ہے جسے بھی چاہا بہت کافرانہ چاہا ہے ہزار قسم کے الزام اور خاموشی تعلقات کو یوں بھی نبھانا چاہا ہے گرائے جانے لگے ہیں درخت ہر جانب کہ میں نے شاخ پہ اک آشیانہ چاہا ہے ہے کیوں عداوت اغیار ہی کا ذکر یہاں چمن

ہر ایک گام پہ اک بت بنانا چاہا ہے Read More »

درون حلقۂ زنجیر ہوں میں

غزل درون حلقۂ زنجیر ہوں میں شکستہ خواب کی تعبیر ہوں میں مجھے حیرت سے یوں وہ تک رہا ہے کہ جیسے میں نہیں تصویر ہوں میں مری باتیں تو زہریلی بہت ہیں مگر تریاک کی تاثیر ہوں میں میں زندہ ہوں حصار بے حسی میں محبت کی نئی تفسیر ہوں میں اک آئنہ بھی

درون حلقۂ زنجیر ہوں میں Read More »

گردش مقدر کا سلسلہ جو چل جائے

غزل گردش مقدر کا سلسلہ جو چل جائے دوسرا عتاب آئے اک بلا جو ٹل جائے حجرۂ گریباں میں ہر جواب روشن ہے بس ذرا نگاہوں کا زاویہ بدل جائے آنسوؤں کے بہنے کا یہ اثر تو ہوتا ہے غم ذرا سا ڈھل جائے دل بھی کچھ سنبھل جائے مسئلوں کی گتھی بھی یوں کہاں

گردش مقدر کا سلسلہ جو چل جائے Read More »

دلوں میں درد ہی اتنا کشید رکھا ہے

غزل دلوں میں درد ہی اتنا کشید رکھا ہے کہ آنکھ آنکھ نے آنسو کشید رکھا ہے قتال ظلم و تشدد فساد آگ دھواں ہمارے شہر میں اب کیا مزید رکھا ہے نہ جس سے حل مسائل کی راہ نکلے کوئی اسی کا نام تو گفت و شنید رکھا ہے اڑی ہے جب سے پرندوں

دلوں میں درد ہی اتنا کشید رکھا ہے Read More »

روبرو بت کے دعا کی بھول ہو جائے تو پھر

غزل روبرو بت کے دعا کی بھول ہو جائے تو پھر اور پھر وہ ہی دعا مقبول ہو جائے تو پھر میں بڑھاؤں ہاتھ جس کانٹے کی جانب شوق سے ہاتھ میں آ کر وہ کانٹا پھول ہو جائے تو پھر بادبانوں پر ہوا ہو مہرباں اور دفعتاً ٹکڑے ٹکڑے ناؤ کا مستول ہو جائے

روبرو بت کے دعا کی بھول ہو جائے تو پھر Read More »

مسافروں کے یہ وہم و گماں میں تھا ہی نہیں

غزل مسافروں کے یہ وہم و گماں میں تھا ہی نہیں کہ راہبر تو کوئی کارواں میں تھا ہی نہیں سوال یہ ہے کہ پھر آگ لگ گئی کیسے کوئی دیا تو اندھیرے مکاں میں تھا ہی نہیں اٹھا لیے گئے ہتھیار پھر تحفظ کو کہ شہر امن میں کوئی اماں میں تھا ہی نہیں

مسافروں کے یہ وہم و گماں میں تھا ہی نہیں Read More »

مرے چاروں طرف اک آہنی دیوار کیوں ہے

غزل مرے چاروں طرف اک آہنی دیوار کیوں ہے اگر سچا ہوں میں سچ کا مقدر ہار کیوں ہے نشاط و انبساط و شادمانی زیست ٹھہری تو بتلائے کوئی جینا مجھے آزار کیوں ہے مسافت زندگی ہے اور دنیا اک سرائے تو اس تمثیل میں طوفان کا کردار کیوں ہے جہاں سچ کی پذیرائی کے

مرے چاروں طرف اک آہنی دیوار کیوں ہے Read More »