MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سب پگھل جائے تماشہ وہ ادھر کب ہوگا

غزل سب پگھل جائے تماشہ وہ ادھر کب ہوگا موم کے شہر سے سورج کا گزر کب ہوگا خواب کاغذ کے سفینے ہیں بچائیں کیسے ختم اس آگ کے دریا کا سفر کب ہوگا جس کا نقشہ ہے مرے ذہن میں اک مدت سے گھر وہ تعمیر سے پہلے ہی کھنڈر کب ہوگا میرے کھوئے […]

سب پگھل جائے تماشہ وہ ادھر کب ہوگا Read More »

ہنستی ہوئی تنہا وہ دریچے میں کھڑی ہے

غزل ہنستی ہوئی تنہا وہ دریچے میں کھڑی ہے لڑکی ہے کہ ترشے ہوئے ہیروں کی لڑی ہے سونے کا یہ انداز ہے خفگی کی علامت چہرہ کئے دیوار کی جانب وہ پڑی ہے کہرے میں گھری شام کی ڈولی سے اتر کر تنہائی کی چوکھٹ پہ تری یار کھڑی ہے دل عمر کے قانون

ہنستی ہوئی تنہا وہ دریچے میں کھڑی ہے Read More »

ایک اک لفظ میں ہے صندلیں جذبوں کا بہاؤ

غزل ایک اک لفظ میں ہے صندلیں جذبوں کا بہاؤ تیرے لہجے میں ہے کس جوئے رواں کا ٹھہراؤ پھر ہوئی شام کرے دل کی تواضع کا خیال کوئی بھولا ہوا منظر کوئی رستا ہوا گھاؤ کوئی پتھر کسی کوچے میں نہ رہنے پائے آج کرنا ہے کسی شیش محل پر پتھراؤ میں پگھل جاؤں

ایک اک لفظ میں ہے صندلیں جذبوں کا بہاؤ Read More »

غزل غزل میں ستائش ترے جمال کی ہے

غزل غزل غزل میں ستائش ترے جمال کی ہے یہ دل کشی تری آنکھوں میں کس غزال کی ہے اتار دی ہے ہر اک پیڑ نے قبا اپنی خزاں کی رت میں ادا موسم وصال کی ہے ہے دل کی ڈور میں بیتے ہوئے دنوں کا حساب کہ ایک ایک گرہ ایک ایک سال کی

غزل غزل میں ستائش ترے جمال کی ہے Read More »

دوریاں ساری سمٹ کر رہ گئیں ایسا لگا

غزل دوریاں ساری سمٹ کر رہ گئیں ایسا لگا موند لی جب آنکھ تو سینے سے کوئی آ لگا کس قدر اپنائیت اس اجنبی بستی میں تھی گو کہ ہر چہرہ تھا بیگانہ مگر اپنا لگا پاس سے ہو کر جو وہ جاتا تو خوش ہوتے مگر اس کا کترا کر گزرنا بھی ہمیں اچھا

دوریاں ساری سمٹ کر رہ گئیں ایسا لگا Read More »

بچھڑ گیا ہے کہاں کون کچھ پتہ ہی نہیں

غزل بچھڑ گیا ہے کہاں کون کچھ پتہ ہی نہیں سفر میں جیسے کوئی اپنے ساتھ تھا ہی نہیں کسی سے ربط بڑھائیں تو مت خفا ہونا کہ دل میں اب تری یادوں کا سلسلہ ہی نہیں سب اپنے اپنے مسیحا کے انتظار میں ہیں کسی کا جیسے زمانے میں اب خدا ہی نہیں اک

بچھڑ گیا ہے کہاں کون کچھ پتہ ہی نہیں Read More »

جینا ہے سب کے ساتھ کہ انسان میں بھی ہوں

غزل جینا ہے سب کے ساتھ کہ انسان میں بھی ہوں چہرے بدل بدل کے پریشان میں بھی ہوں جھونکا ہوا کا چپکے سے کانوں میں کہہ گیا اک کانپتے دیے کا نگہبان میں بھی ہوں انکار اب تجھے بھی ہے میری شناخت سے لیکن نہ بھول یہ تری پہچان میں بھی ہوں آنکھوں میں

جینا ہے سب کے ساتھ کہ انسان میں بھی ہوں Read More »

یاد موسم وہ پرانے آئے

غزل یاد موسم وہ پرانے آئے زخم ہنسنے کے زمانے آئے دل کی دہلیز پہ یادوں کے سوا کون آواز لگانے آئے اب کہاں تاب لہو رونے کی اب نہ وہ خواب دکھانے آئے لوگ جیتے ہیں لہو پی کے یہاں ہم کہاں پیاس بجھانے آئے کہہ گئے بات جو سچ تھی ورنہ یاد کتنے

یاد موسم وہ پرانے آئے Read More »

خود کی خاطر نہ زمانے کے لیے زندہ ہوں

غزل خود کی خاطر نہ زمانے کے لیے زندہ ہوں قرض مٹی کا چکانے کے لیے زندہ ہوں کس کو فرصت جو مری بات سنے زخم گنے خاک ہوں خاک اڑانے کے لیے زندہ ہوں لوگ جینے کے غرض مند بہت ہیں لیکن میں مسیحا کو بچانے کے لیے زندہ ہوں روح آوارہ نہ بھٹکے

خود کی خاطر نہ زمانے کے لیے زندہ ہوں Read More »

قاتل یہاں پہ بھائی کا بھائی ہے دوستو

غزل قاتل یہاں پہ بھائی کا بھائی ہے دوستو دنیا یہ کیسے موڑ پہ آئی ہے دوستو مہر و وفا سے اب ہمیں رغبت نہیں رہی محفل کدورتوں کی سجائی ہے دوستو لٹنے پہ گھر ہمارا وہ ایسے ہیں مطمئن امید ان کی جیسے بر آئی ہے دوستو رکھوں جو دل میں بات تو گھٹتا

قاتل یہاں پہ بھائی کا بھائی ہے دوستو Read More »