ہم بھی کیا زندگی گزار گئے
غزل ہم بھی کیا زندگی گزار گئے قرض جیسے کوئی اتار گئے جن سے پھولوں کی تھی مجھے امید وہ بھی دامن میں بھر کے خار گئے بے وجہ بھی کسی کے کوچے میں ہم گئے اور بار بار گئے یارو ہم تو تمہاری دنیا میں بے سکوں آئے بے قرار گئے بعض ہمدرد تلخ […]
ہم بھی کیا زندگی گزار گئے Read More »