MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہم بھی کیا زندگی گزار گئے

غزل ہم بھی کیا زندگی گزار گئے قرض جیسے کوئی اتار گئے جن سے پھولوں کی تھی مجھے امید وہ بھی دامن میں بھر کے خار گئے بے وجہ بھی کسی کے کوچے میں ہم گئے اور بار بار گئے یارو ہم تو تمہاری دنیا میں بے سکوں آئے بے قرار گئے بعض ہمدرد تلخ […]

ہم بھی کیا زندگی گزار گئے Read More »

وہ نظر بد گماں سی لگتی ہے

غزل وہ نظر بد گماں سی لگتی ہے زندگی رائیگاں سی لگتی ہے بے یقینی سی بے یقینی ہے ہر حقیقت گماں سی لگتی ہے لب کو زحمت ہنسی کی کیا دیجے جب ہنسی بھی فغاں سی لگتی ہے شہر دل میں ہے کیسا سناٹا خامشی بھی بیاں سی لگتی ہے خوگر تیرگی ہوں جب

وہ نظر بد گماں سی لگتی ہے Read More »

سانحہ آج کا یہ کیا کم ہے

غزل سانحہ آج کا یہ کیا کم ہے آدمی آدمی سے برہم ہے تیرگی بھی ہنسی اڑاتی ہے لو چراغوں کی کتنی مدھم ہے راہ ہستی کہیں نہ جھلسا دے دھوپ زائد ہے چاندنی کم ہے رکھئے لہجے میں پیار کی شبنم زخم دل کا یہی تو مرہم ہے آدمی پھر بھی تھک ہی جاتا

سانحہ آج کا یہ کیا کم ہے Read More »

غزل جس کی جانب تو اک نظر دیکھے خواب تیرے وہ عمر بھر دیکھے چین پایا کہیں نہ اس دل نے گھوم کر ہم نے سو نگر دیکھے داغ مانا ہیں میرے دامن پر اپنا چہرہ بھی وہ مگر دیکھے زہر دیتے رہے مریضوں کو ہم نے ایسے بھی چارہ گر دیکھے لطف چاہے جو

Read More »

لٹ گیا چین تیرے جانے سے

غزل لٹ گیا چین تیرے جانے سے آنکھ بھر آئی مسکرانے سے شب کی تنہائیوں میں تیری یاد کم نہیں ہے کسی خزانے سے یوں ہی آتا نہیں میں تیرے پاس ربط بڑھتا ہے آنے جانے سے کی جو اس نے ذرا سی دل جوئی غم بھی لگنے لگے سہانے سے مٹ نہیں سکتی دل

لٹ گیا چین تیرے جانے سے Read More »

دل کو پتھر بنا کے دیکھوں گا

غزل دل کو پتھر بنا کے دیکھوں گا میں بھی تجھ کو بھلا کے دیکھوں گا راستے کا تو کر لوں اندازہ سوئے منزل بھی جا کے دیکھوں گا خود بجھا دوں گا دیپ میں جب بھی طور بدلے ہوا کے دیکھوں گا کس لئے لوگ ہیں فدا اس پر اس کی محفل میں جا

دل کو پتھر بنا کے دیکھوں گا Read More »

کوئی سمجھا نہیں لگی دل کی

غزل کوئی سمجھا نہیں لگی دل کی بات دل میں سدا رہی دل کی کتنے نایاب ہو گئے وہ لوگ جو دعا لیتے تھے دکھی دل کی مفلسی میں بھی دن کٹیں اچھے ہو جو حاصل تونگری دل کی ان دیوں کو بھی تو کرو روشن دور کر دیں جو تیرگی دل کی دل نہ

کوئی سمجھا نہیں لگی دل کی Read More »

بے وطن ہوں وطن میں آکر بھی

غزل بے وطن ہوں وطن میں آکر بھی جل رہا ہوں چمن میں آکر بھی میری ہستی کا پوچھتے کیا ہو جان بے جاں ہے تن میں آکر بھی پائی ناقدریٔ ادب اکثر ہم نے بزم سخن میں آکر بھی رکھا تیر ستم مری جانب اس نے دیوانہ پن میں آکر بھی بد نمائی نہ

بے وطن ہوں وطن میں آکر بھی Read More »

میری الفت کو بھی جفا سمجھے

غزل میری الفت کو بھی جفا سمجھے میں نے کیا سمجھا آپ کیا سمجھے اس نظر کو نظر کہوں کیسے پتھروں کو جو آئنہ سمجھے تھی فضاؤں میں وہ گھٹن کہ لوگ باد صرصر کو بھی صبا سمجھے بھول بیٹھا ہو جب خدا کو بھی آدمی آدمی کو کیا سمجھے بد گماں ہو گئے وہ

میری الفت کو بھی جفا سمجھے Read More »

کل بھی جلے تھے دھوپ میں جلتے ہیں آج بھی

غزل کل بھی جلے تھے دھوپ میں جلتے ہیں آج بھی ہم لوگ سچ کی راہ پہ چلتے ہیں آج بھی کل بھی مرا وجود تھا دشمن کو ناگوار کچھ لوگ میرے نام سے جلتے ہیں آج بھی حجرے دلوں کے کس لئے تاریک ہو گئے تارے تو آسماں پہ نکلتے ہیں آج بھی ان

کل بھی جلے تھے دھوپ میں جلتے ہیں آج بھی Read More »