MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خود کی خاطر نہ زمانے کے لیے زندہ ہوں

غزل

خود کی خاطر نہ زمانے کے لیے زندہ ہوں
قرض مٹی کا چکانے کے لیے زندہ ہوں

کس کو فرصت جو مری بات سنے زخم گنے
خاک ہوں خاک اڑانے کے لیے زندہ ہوں

لوگ جینے کے غرض مند بہت ہیں لیکن
میں مسیحا کو بچانے کے لیے زندہ ہوں

روح آوارہ نہ بھٹکے یہ کسی کی خاطر
سارے رشتوں کو بھلانے کے لیے زندہ ہوں

خواب ٹوٹے ہوئے روٹھے ہوئے لمحے وہ قمرؔ
بوجھ کتنے ہی اٹھانے کے لیے زندہ ہوں

قمر اقبال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم