MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

چاندنی کا رقص دریا پر نہیں دیکھا گیا

غزل چاندنی کا رقص دریا پر نہیں دیکھا گیا آپ یاد آئے تو یہ منظر نہیں دیکھا گیا آپ کے جاتے ہی ہم کو لگ گئی آوارگی آپ کے جاتے ہی ہم سے گھر نہیں دیکھا گیا اپنی ساری کج کلاہی داستاں ہو کر رہی عشق جب مذہب کیا تو سر نہیں دیکھا گیا پھول […]

چاندنی کا رقص دریا پر نہیں دیکھا گیا Read More »

کبھی پیارا کوئی منظر لگے گا

غزل کبھی پیارا کوئی منظر لگے گا بدلنے میں اسے دم بھر لگے گا نہیں ہو تم تو گھر جنگل لگے ہے جو تم ہو ساتھ جنگل گھر لگے گا ابھی ہے رات باقی وحشتوں کی ابھی جاؤگے گھر تو ڈر لگے گا کبھی پتھر پڑیں گے سر کے اوپر کبھی پتھر کے اوپر سر

کبھی پیارا کوئی منظر لگے گا Read More »

چمکا جو چاند رات کا چہرہ نکھر گیا

غزل چمکا جو چاند رات کا چہرہ نکھر گیا مانگے کا نور بھی تو بڑا کام کر گیا یہ بھی بہت ہے سینکڑوں پودے ہرے ہوئے کیا غم جو بارشوں میں کوئی پھول مر گیا ساحل پہ لوگ یوں ہی کھڑے دیکھتے رہے دریا میں ہم جو اترے تو دریا اتر گیا سایہ بھی آپ

چمکا جو چاند رات کا چہرہ نکھر گیا Read More »

لگے ہے آسماں جیسا نہیں ہے

غزل لگے ہے آسماں جیسا نہیں ہے نظر آتا ہے جو ہوتا نہیں ہے تم اپنے عکس میں کیا دیکھتے ہو تمہارا عکس بھی تم سا نہیں ہے ملے جب تم تو یہ احساس جاگا اب آگے کا سفر تنہا نہیں ہے بہت سوچا ہے ہم نے زندگی پر مگر لگتا ہے کچھ سوچا نہیں

لگے ہے آسماں جیسا نہیں ہے Read More »

کوئی رشتہ نہ ہو پھر بھی رشتے بہت

غزل کوئی رشتہ نہ ہو پھر بھی رشتے بہت آپ اپنے نہیں آپ اپنے بہت راز رکھتے نہ ہم اس تعلق کو گر لوگ روتے بہت لوگ ہنستے بہت دل کی تنہائیوں کا مداوا نہیں گھوم کر ہم نے دیکھے ہیں میلے بہت اس ہی بنیاد پر کیوں نہ مل جائیں ہم آپ تنہا بہت

کوئی رشتہ نہ ہو پھر بھی رشتے بہت Read More »

ایک دیوار اگر ہو تو یہاں سر ماریں

غزل ایک دیوار اگر ہو تو یہاں سر ماریں ایک دیوار کے پیچھے ہیں کئی دیواریں ہم کو لوٹا دے ہمارا وہ پرانا چہرہ زندگی تیرے لیے روپ کہاں تک دھاریں پاس کچھ اپنے بچا ہے تو یہی اک لمحہ آخری داؤ ہے جیتیں کہ یہ بازی ہاریں تم کبھی آگ میں پل بھر تو

ایک دیوار اگر ہو تو یہاں سر ماریں Read More »

یہ شہر دل جو کوئی شہر آرزو بھی نہیں

غزل یہ شہر دل جو کوئی شہر آرزو بھی نہیں بھٹک رہے ہیں مگر تیری جستجو بھی نہیں ہم اہل درد کریں کیا کہیں جو مل بیٹھیں ترے سوا کوئی موضوع گفتگو بھی نہیں ورق ورق پہ ابھی تک تو خوں سے شعر لکھے قلم ہے خشک کہ اب جسم میں لہو بھی نہیں ہمیں

یہ شہر دل جو کوئی شہر آرزو بھی نہیں Read More »

اپنے سینے میں ہی ہر ایک تلاطم رکھنا

غزل اپنے سینے میں ہی ہر ایک تلاطم رکھنا دل ہو زخمی بھی تو ہونٹوں پہ تبسم رکھنا اور زخموں کا اضافہ ہی سہی جب بھی ملیں تو مگر اپنا یہی طرز تکلم رکھنا میرے اذکار کا رشتہ تری آواز سے ہے میرے گہنوں کے لیے اپنا ترنم رکھنا تو نے کیوں مجھ سے بچھڑتے

اپنے سینے میں ہی ہر ایک تلاطم رکھنا Read More »

ایک اک لفظ میں ہے صندلیں جذبوں کا بہاؤ

غزل ایک اک لفظ میں ہے صندلیں جذبوں کا بہاؤ تیرے لہجے میں ہے کس جوئے رواں کا ٹھہراؤ پھر ہوئی شام کرے دل کی تواضع کا خیال کوئی بھولا ہوا منظر کوئی رستا ہوا گھاؤ کوئی پتھر کسی کوچے میں نہ رہنے پائے آج کرنا ہے کسی شیش محل پر پتھراؤ میں پگھل جاؤں

ایک اک لفظ میں ہے صندلیں جذبوں کا بہاؤ Read More »