MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

بے قراری سی بے قراری ہے

غزل بے قراری سی بے قراری ہے سانس لینا بھی اب تو بھاری ہے موت کو کس لئے کریں بدنام زندگی زندگی سے ہاری ہے آدمی اس سے بچ نہیں سکتا وقت سب سے بڑا شکاری ہے کیا ہوا گر نہیں خوشی اپنی غم کی جاگیر تو ہماری ہے شکل اپنی نہ دیکھیے اس میں […]

بے قراری سی بے قراری ہے Read More »

آخری کوئی پل نہیں ہوتا

غزل آخری کوئی پل نہیں ہوتا ہر کسی کا بدل نہیں ہوتا گردشِ فکر اک معمہ ہے جو کسی طور حل نہیں ہوتا جن درختوں کا ہوتا ہے سایہ اُن کی قسمت میں پھل نہیں ہوتا فکرِامرُوز ہو جنہیں ہر پل اُن کے ہاتھوں میں کل نہیں ہوتا سحر انگیز حرف ہوتے نہیں تُو! جو

آخری کوئی پل نہیں ہوتا Read More »

جشن آوارگی و رنج مسافت کا شریک

غزل جشن آوارگی و رنج مسافت کا شریک دشت کا دشت ہوا ہے مری وحشت کا شریک اب پلٹنے کا سفر ہے تو نظر آتا نہیں وہ جو رہتا تھا ہمیشہ مری عجلت کا شریک ہم کہ ہر قرن میں مل مل کے بچھڑنے والے آ خدا کو بھی کریں اپنی روایت کا شریک صرف

جشن آوارگی و رنج مسافت کا شریک Read More »

آنکھ میں بھیگے ستاروں کی فراوانی ملی

غزل آنکھ میں بھیگے ستاروں کی فراوانی ملی ہم نے پھر عشق کیا اور پشیمانی ملی دل نے کیا پایا محبت میں بجز درد فراق روح کو زخم ملا زخم کو تابانی ملی ایک منظر نے پلٹ کر سر منظر دیکھا مجھ کو حیرانی تجھے آئنہ سامانی ملی رات اک سجدۂ حیران جہاں رکھا تھا

آنکھ میں بھیگے ستاروں کی فراوانی ملی Read More »

خرام موجۂ باد صبا سے ملتی رہے

غزل خرام موجۂ باد صبا سے ملتی رہے تری خبر مجھے ابر رسا سے ملتی رہے تری کشش سے نہ نکلے کبھی زمین دل تری رتوں ترے ارض و سما سے ملتی رہے میں جانتی ہوں کوئی معجزہ نہ ہوگا مگر مری دعا ترے دست دعا سے ملتی رہے میں کاٹ دوں پس دیوار باغ

خرام موجۂ باد صبا سے ملتی رہے Read More »

یہ رات ہے کہ تری چشم صندلیں کا فسوں

غزل یہ رات ہے کہ تری چشم صندلیں کا فسوں کہ جھومتا چلا جاتا ہے کیف ہجر میں دل جمیل چہرے پہ آنکھوں کے نرم رو حلقے افق پہ ہالۂ مہتاب کو تراشتے ہیں ہماری نیند کے ٹوٹے ہوئے شبستاں میں تمہارے ہونٹ کسی خواب کو تراشتے ہیں یہ رات ہے یا اداسی بھری خلاؤں

یہ رات ہے کہ تری چشم صندلیں کا فسوں Read More »

ہجر آثار تھا اک شہر تہ دل نہ رہا

غزل ہجر آثار تھا اک شہر تہ دل نہ رہا آ گئے تم تو کوئی چاہ کے قابل نہ رہا وقت کی کونسی جہتوں میں تجھے ڈھونڈھتی میں کہکشاں دل نہ ہوئی عشق در دل نہ رہا مل کہ اب جا کے میسر ہوئی پوری خلوت آ کہ اب دشت بدن بیچ میں حائل نہ

ہجر آثار تھا اک شہر تہ دل نہ رہا Read More »

صحرا سے تہی تھے رم دریا میں نہیں تھے

غزل صحرا سے تہی تھے رم دریا میں نہیں تھے ہم لوگ ترے کنج فسانہ میں نہیں تھے دل خود سے جدا ہو کے انہیں ڈھونڈ رہا تھا وہ دن کہ جو امکان زمانہ میں نہیں تھے اک حیرت روشن سی رہی چشم کے ہم راہ ہم گرچہ فسوں خانۂ فردا میں نہیں تھے جب

صحرا سے تہی تھے رم دریا میں نہیں تھے Read More »

موجۂ عمر گریزاں کی روانی جیسا

غزل موجۂ عمر گریزاں کی روانی جیسا آنکھ میں کچھ تو ہے ٹھہرے ہوئے پانی جیسا زرد پڑتے ہوئے پھولوں میں دھنک کی ترتیب زندگی میں یہ عجب موڑ کہانی جیسا اس طرح چھلکے ترے ہونٹ کہ وقت رخصت رہ گیا کچھ مرے ماتھے پہ نشانی جیسا میں نے کل رات ترے دل میں چمکتے

موجۂ عمر گریزاں کی روانی جیسا Read More »

طلسم لب میں کیا کچھ ہے وہ چشم مہرباں کیا ہے

غزل طلسم لب میں کیا کچھ ہے وہ چشم مہرباں کیا ہے ابھی سے کیا کہیں زر خانۂ دل میں کہاں کیا ہے تمہاری کہکشائیں کون سی دنیا کا پرتو ہیں یہاں تو چاند ہے بادل ہے تارے ہیں وہاں کیا ہے وہاں بھی کیا ستارے ان کے پہلو میں ترشتے ہیں وہاں ساز زماں

طلسم لب میں کیا کچھ ہے وہ چشم مہرباں کیا ہے Read More »