MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اے مرے ماہ رو تری چشم ستارہ ساں کے بعد

غزل اے مرے ماہ رو تری چشم ستارہ ساں کے بعد چاند کی دید کیا کریں رویت کہکشاں کے بعد بند قبائے آرزو کھولیے کس کے واسطے دور سبو کا لطف کیا رخصت مے کشاں کے بعد کیجے فراق سے وصال کہنہ سرائے عشق میں نذر گزاریے کوئی اور بھی نقد جاں کے بعد اے […]

اے مرے ماہ رو تری چشم ستارہ ساں کے بعد Read More »

چراغ گل تھے زمیں کی گردش ٹھہر رہی تھی

غزل چراغ گل تھے زمیں کی گردش ٹھہر رہی تھی میں تیرے ہم راہ باغ جاں سے گزر رہی تھی طلوع ہو کر تری جبیں نے کہا کہ آؤ میں پاؤں رکھتے ہوئے ستاروں پہ ڈر رہی تھی تمہارے بازو پہ سبز تعویذ کھل رہا تھا مری محبت پہ آیت دل اتر رہی تھی کسے

چراغ گل تھے زمیں کی گردش ٹھہر رہی تھی Read More »

دل سرخ گلاب سا مہکے گا دن بدلیں گے

غزل دل سرخ گلاب سا مہکے گا دن بدلیں گے یہ صحرا رنگ اڑائے گا دن بدلیں گے وہ رہنے والا دور دراز ستارے کا اک روشن خط مجھے لکھے گا دن بدلیں گے وہ چاند سے اگلے موڑ پہ مجھ سے ملنے کو کئی صدیاں پاٹ کے آئے گا دن بدلیں گے کہرے میں

دل سرخ گلاب سا مہکے گا دن بدلیں گے Read More »

کہاں کہاں سے سمیٹوں شکستہ خوابوں کو

غزل کہاں کہاں سے سمیٹوں شکستہ خوابوں کو کہ ضبط غم کا سلیقہ نہیں ہے آنکھوں کو عجب بہار خزاں ہے چمن میں اب کی بار ہوا اڑاتی پھری میرے خشک پتوں کو سفر ابھی تو ذرا سا کیا ہے تیرے بغیر ابھی تو رونا بہت ہے اداس آنکھوں کو ابھی تو عمر کا یہ

کہاں کہاں سے سمیٹوں شکستہ خوابوں کو Read More »

زمیں تک ہی نہیں چرچا ترا اب آسماں تک ہے

غزل زمیں تک ہی نہیں چرچا ترا اب آسماں تک ہے کبھی تو سوچ دل میں جور کی شہرت کہاں تک ہے نہ جانے اس قدر سہمے ہوئے ہیں کیوں چمن والے رسائی برق سوزاں کی تو میرے آشیاں تک ہے مری تقلید سے رشک قمر کہتے ہیں سب تم کو تمہارے حسن کا چرچا

زمیں تک ہی نہیں چرچا ترا اب آسماں تک ہے Read More »

کیا کسی مے کش نے مانگی ہے دعا برسات کی

غزل کیا کسی مے کش نے مانگی ہے دعا برسات کی میکدہ بردوش آتی ہے گھٹا برسات کی کیوں ہوا باندھے نہ اب ہر پارسا برسات کی بے پیے مدہوش کرتی ہے فضا برسات کی ایک مدت سے ہمیں بھولا ہوا تھا مے کدہ کچھ تقاضا کر رہی ہے پھر ہوا برسات کی یوں اڑایا

کیا کسی مے کش نے مانگی ہے دعا برسات کی Read More »

چھوڑ دے اے دل محبت کا خیال اچھا نہیں

غزل چھوڑ دے اے دل محبت کا خیال اچھا نہیں کام اچھا ہے مگر اس کا مآل اچھا نہیں ان سے جو کہنا ہے اے دل کہہ سمجھ کر سوچ کر یہ بھی کچھ کہنے میں کہنا ہے کہ حال اچھا نہیں اے دل برباد اب ہم سے گلہ بے سود ہے ہم تو کہتے

چھوڑ دے اے دل محبت کا خیال اچھا نہیں Read More »

کیا کیا ہوئے ہیں ہم پہ ستم کچھ نہ پوچھئے

غزل کیا کیا ہوئے ہیں ہم پہ ستم کچھ نہ پوچھئے نا گفتنی ہے قصۂ غم کچھ نہ پوچھئے دل کا تو حال آپ کو ہم نے سنا دیا جن مشکلوں میں آپ ہیں ہم کچھ نہ پوچھئے گزرے بخیر کعبہ و بت خانہ سے تو ہم اب سر کس آستاں پہ ہے خم کچھ

کیا کیا ہوئے ہیں ہم پہ ستم کچھ نہ پوچھئے Read More »

برملا وہ بھی اگر ہم کو دغا دیتا ہے

غزل برملا وہ بھی اگر ہم کو دغا دیتا ہے دل بیتاب اسے منہ پہ سنا دیتا ہے وہ ستم کیش جب آزار نیا دیتا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ الفت کا صلہ دیتا ہے عشق کی آگ تو ہے یوں بھی فنا کا پیغام دل نا فہم عبث اس کو ہوا دیتا ہے آزما

برملا وہ بھی اگر ہم کو دغا دیتا ہے Read More »

آئیں وہ لاکھ دیکھنے والوں کے سامنے

غزل آئیں وہ لاکھ دیکھنے والوں کے سامنے اٹھتی ہے آنکھ مہر جمالوں کے سامنے ممکن نہیں جواب تری چشم مست کا یہ فیصلہ ہوا ہے غزالوں کے سامنے تنہا نہ ایک حضرت موسیٰ کو غش ہوا ٹھہرا ہے کون برق جمالوں کے سامنے ہو جائے حسن کو نہ کسی کی نظر کہیں اچھے نہیں

آئیں وہ لاکھ دیکھنے والوں کے سامنے Read More »