مرنا مریض عشق کے حق میں شفا ہوا
غزل مرنا مریض عشق کے حق میں شفا ہوا اچھا ہوا نجات ملی کیا برا ہوا راہ عدم کی منزل اول میں کیا ہوا جو آیا خاک ڈال کے مجھ پر ہوا ہوا نشتر کو ڈوبنے نہ دیا اے رگ جنوں کیا اس کا ایک قطرۂ خوں میں بھلا ہوا جس دل کے داغ سے […]
مرنا مریض عشق کے حق میں شفا ہوا Read More »