MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

مرنا مریض عشق کے حق میں شفا ہوا

غزل مرنا مریض عشق کے حق میں شفا ہوا اچھا ہوا نجات ملی کیا برا ہوا راہ عدم کی منزل اول میں کیا ہوا جو آیا خاک ڈال کے مجھ پر ہوا ہوا نشتر کو ڈوبنے نہ دیا اے رگ جنوں کیا اس کا ایک قطرۂ خوں میں بھلا ہوا جس دل کے داغ سے […]

مرنا مریض عشق کے حق میں شفا ہوا Read More »

بتائیں کیا کہ آئے ہیں کہاں سے ہم کہاں ہو کر

غزل بتائیں کیا کہ آئے ہیں کہاں سے ہم کہاں ہو کر نشاں اب ڈھونڈتے پھرتے ہیں گھر کا بے نشاں ہو کر لبھانے کو دل شیدا کے ساری پردہ داری تھی عیاں ہو تم نہاں ہو کر نہاں ہو تم عیاں ہو کر ہماری خاک کے ذرے فنا ہو کر بھی چمکیں گے عروج

بتائیں کیا کہ آئے ہیں کہاں سے ہم کہاں ہو کر Read More »

لا مکاں نام ہے اجڑے ہوئے ویرانے کا

غزل لا مکاں نام ہے اجڑے ہوئے ویرانے کا ہو کے عالم میں ہے مسکن ترے دیوانے کا شوق رسوا کوئی دیکھے ترے دیوانے کا خود وہ آغاز بنا ہے کسی افسانے کا جام دل بادۂ الفت سے بھرا رہتا ہے واہ کیا ظرف ہے ٹوٹے ہوئے پیمانے کا داستاں عشق کی ہے پوری سنائیں

لا مکاں نام ہے اجڑے ہوئے ویرانے کا Read More »

یہ کس کی جستجو ہے اور میں ہوں

غزل یہ کس کی جستجو ہے اور میں ہوں مقام دشت ہو ہے اور میں ہوں چمن میں دیکھتا پھرتا ہوں کس کو فریب رنگ و بو ہے اور میں ہوں بروز حشر تازہ گل کھلے گا وہ دامن کا لہو ہے اور میں ہوں کبھی دیوانہ تھا پر اب ہوں ہشیار گریباں کا رفو

یہ کس کی جستجو ہے اور میں ہوں Read More »

دل میں اگر نہ عشق و محبت کی چاہ ہو

غزل دل میں اگر نہ عشق و محبت کی چاہ ہو نالہ نہ درد ہو نہ فغاں ہو نہ آہ ہو رسوا نہ اعتبار تغافل کو کیجیے کیا فائدہ کہ پرسش دل گاہ گاہ ہو دشمن سے پوچھتا ہوں نشان حریم ناز میری طرح سے کوئی نہ گم کردہ راہ ہو راہ جنوں میں مجھ

دل میں اگر نہ عشق و محبت کی چاہ ہو Read More »

دل بہلنے کا جہاں میں کوئی ساماں نہ ہوا

غزل دل بہلنے کا جہاں میں کوئی ساماں نہ ہوا اپنا ہمدرد کبھی عالم امکاں نہ ہوا شکوۂ ہجر نہ بھولے سے بھی آیا لب پر روبرو ان کے میں خود کردہ پشیماں نہ ہوا ہم نشیں پوچھ نہ حال دل ناکام ازل یہی حسرت رہی پورا کوئی ارماں نہ ہوا بے خودی میں یہ

دل بہلنے کا جہاں میں کوئی ساماں نہ ہوا Read More »

وحشت دل نے کہیں کا بھی نہ رکھا مجھ کو

غزل وحشت دل نے کہیں کا بھی نہ رکھا مجھ کو دیکھنا ہے ابھی کیا کہتی ہے دنیا مجھ کو اثر قید تعین سے بھی آزاد ہے دل کس طرح بند علایق ہو گوارا مجھ کو لینے بھی دے ابھی موج لب ساحل کے مزے کیوں ڈبوتی ہے ابھرنے کی تمنا مجھ کو خواہش دل

وحشت دل نے کہیں کا بھی نہ رکھا مجھ کو Read More »

بچھڑے ہیں کب سے قافلۂ رفتگاں سے ہم

غزل بچھڑے ہیں کب سے قافلۂ رفتگاں سے ہم مل جائیں گے کبھی نہ کبھی کارواں سے ہم رہ رہ کے پوچھتے ہیں یہی باغباں سے ہم لے جائیں چار تنکے کہاں آشیاں سے ہم مجبور کس قدر ہیں دل بد گماں سے ہم دیکھے کوئی کہ چپ ہیں کھڑے بے زباں سے ہم اللہ

بچھڑے ہیں کب سے قافلۂ رفتگاں سے ہم Read More »

نہ اے دل صورت شیخ حرم دیوانہ بن جانا

غزل نہ اے دل صورت شیخ حرم دیوانہ بن جانا کہیں آنا نہ جانا زائر بت خانہ بن جانا تمہاری دیدۂ مخمور کو یہ خوب آتا ہے کبھی شیشہ کبھی ساغر کبھی پیمانہ بن جانا عجب عالم ہے مدہوشوں کا تیری جوش مستی میں کبھی دیوانہ بن جانا کبھی مستانہ بن جانا دل سوزاں دکھانا

نہ اے دل صورت شیخ حرم دیوانہ بن جانا Read More »

ستا کر ستم کش کو کیا پائیے گا

غزل ستا کر ستم کش کو کیا پائیے گا جو کی کچھ شکایت تو جھنجھلائیے گا وہ برق تجلی کی جو جلوہ گاہ وہیں حضرت دل نہ رہ جائیے گا ادب کی جگہ مرنے والو ہے قبر سمجھ کر یہاں پاؤں پھیلائیے گا غریب اب تو قدموں میں ہی آ پڑا دل ناتواں کو نہ

ستا کر ستم کش کو کیا پائیے گا Read More »