MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

وہ پاس ہے تیرے دور نہیں تو واصل ہے مہجور نہیں

غزل وہ پاس ہے تیرے دور نہیں تو واصل ہے مہجور نہیں کیوں حبل مرکب میں ہے پھنسا مختار ہے تو مجبور نہیں سرگرم شوق‌ و حضور نہیں دل سرد ہے تو محرور نہیں جس قلب میں عشق کا نور نہیں وہ تاب جلوۂ طور نہیں ہر رنگ میں ہے وہ جلوہ نما تو ایک […]

وہ پاس ہے تیرے دور نہیں تو واصل ہے مہجور نہیں Read More »

ملتے نہیں ہو ہم سے یہ کیا ہوا وتیرا

غزل ملتے نہیں ہو ہم سے یہ کیا ہوا وتیرا ملنے لگا ہے شاید اب تم سے کوئی خیرا آنکھوں ہی میں اڑایا نقد دل و جگر کو وہ شوخ دل ربا ہے کیسا اٹھائی گیرا الفت کا جرم بے شک سرزد ہوا ہے ہم سے اس کو صغیرہ سمجھو چاہے اسے کبیرا میدان حشر

ملتے نہیں ہو ہم سے یہ کیا ہوا وتیرا Read More »

تو ہی انیسِ غم رہا نالۂ غمگسار شب

غزل تو ہی انیسِ غم رہا نالۂ غمگسار شب یاس پسند جب ہوا بسمل انتظار شب رنگ شکست کیوں نہ ہو حال امیدوار شب تو ہی تو عشوہ گر ہوا باعث انتشار شب شوق لقائے روئے یار چشم‌ براہ انتظار آہ سحر سے جا ملا دیدۂ اشکبار شب درد شکیب سوز ہے کرب وہی ہنوز

تو ہی انیسِ غم رہا نالۂ غمگسار شب Read More »

اشک آ آ کے مری آنکھوں میں تھم جاتے ہیں

غزل اشک آ آ کے مری آنکھوں میں تھم جاتے ہیں جب وہ کہتے ہیں ابھی تو نہیں ہم جاتے ہیں سکہ اپنا نہیں جمتا ہے تمہارے دل پر نقش اغیار کے کس طور سے جم جاتے ہیں کوئی دم کا ہی دمامہ ہے نہیں دم ہمدم پاس انفاس نہیں دم میں یہ دم جاتے

اشک آ آ کے مری آنکھوں میں تھم جاتے ہیں Read More »

تلاش جس نور کی ہے تجھ کو چھپا ہے تیرے بدن کے اندر

غزل تلاش جس نور کی ہے تجھ کو چھپا ہے تیرے بدن کے اندر ظہور عالم ہوا اسی سے وہ ہے ہر اک جان و تن کے اندر تجھے یہ بے صرفہ جد و کد ہے کشاکشی میں بھی شد و مد ہے نفس کی تجھ کو اگر مدد ہے سفر ہے اس جا وطن

تلاش جس نور کی ہے تجھ کو چھپا ہے تیرے بدن کے اندر Read More »

شہید ارماں پڑے ہیں بسمل کھڑا وہ تلوار کا دھنی ہے

غزل شہید ارماں پڑے ہیں بسمل کھڑا وہ تلوار کا دھنی ہے ادھر تو یہ قتل عام دیکھا ادھر وہ کیسی کٹا چھنی ہے ہوا ہے نیرنگ آج کیسا یہ دل میں قاتل کے کیا ٹھنی ہے جدھر سے گزرا زباں سے نکلا یہ کشتنی ہے وہ کشتنی ہے بگڑ کے ہم کو بگاڑ ڈالا

شہید ارماں پڑے ہیں بسمل کھڑا وہ تلوار کا دھنی ہے Read More »

کس رنگ میں بیان کریں ماجرائے قلب

غزل کس رنگ میں بیان کریں ماجرائے قلب دیکھا جو ہم نے جلوۂ حیرت فزائے قلب وہ جانتا ہے وسعت مشرب کے راز کو دیکھا ہے جس نے عالم بے‌ انتہائے قلب یا رب یہ قلب ہیئت قلبی عجیب ہے نیرنگ دیکھتے ہیں یہ کیا اے خدائے قلب یہ زمزمہ طیور خوش آہنگ کا نہیں

کس رنگ میں بیان کریں ماجرائے قلب Read More »

ہم سے جو عہد تھا وہ عہد شکن بھول گیا

غزل ہم سے جو عہد تھا وہ عہد شکن بھول گیا اپنے عشاق کو وہ غنچہ دہن بھول گیا قیس کا جلوۂ لیلیٰ جو ہوا ہوش ربا وہ سراسیمہ ہوا نجد کا بن بھول گیا کیا کرشمہ یہ تری چشم سخن گو نے کیا کس کی جانب تھا مرا روئے سخن بھول گیا خار خار

ہم سے جو عہد تھا وہ عہد شکن بھول گیا Read More »

تم نے دیکھا ہی نہیں ہے وہ نظام مخصوص

غزل تم نے دیکھا ہی نہیں ہے وہ نظام مخصوص کوئے جاناں میں ہمارا ہے قیام مخصوص مجتمع آج ہیں یاران سر پل سارے خلوت خاص میں ہے مجمع عام مخصوص جلسۂ عام میں دقت نہیں ہوتی ان کو جو سمجھتے ہیں اشاروں میں کلام مخصوص دل غم دیدہ ہوا ہمدم صد گونہ نشاط آج

تم نے دیکھا ہی نہیں ہے وہ نظام مخصوص Read More »

کچھ تو ہو درد کی لذت ہی سہی

غزل کچھ تو ہو درد کی لذت ہی سہی تیری الفت میں اذیت ہی سہی درد کو درد نہ جب تو سمجھے بد گمانی تری عادت ہی سہی دل مہجور میں ارمان وصال نہ سہی دید کی حسرت ہی سہی بت کدہ چھوڑنے والے تو نہ تھے خیر ملتی ہے تو جنت ہی سہی دل

کچھ تو ہو درد کی لذت ہی سہی Read More »