MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دل سے پوچھو کیا ہوا تھا اور کیوں خاموش تھا

غزل دل سے پوچھو کیا ہوا تھا اور کیوں خاموش تھا آنکھ محو دید تھی اتنا مجھے بس ہوش تھا وہ بھی کیا تاثیر تھی جس نے ہلائے سب کے دل کیا بتاؤں وہ مرا ہی نالۂ پر جوش تھا محفل ساقی میں تھا کچھ اور ہی مستوں کا رنگ کوئی ساغر ڈھونڈھتا تھا اور […]

دل سے پوچھو کیا ہوا تھا اور کیوں خاموش تھا Read More »

فضائیں خشک تھیں گھر کی تو باہر کیوں نہیں دیکھا

غزل فضائیں خشک تھیں گھر کی تو باہر کیوں نہیں دیکھا دریچوں سے وہ ہنگاموں کا منظر کیوں نہیں دیکھا زمیں کے خشک لب یہ موسموں کا زہر پیتے ہیں تو تم نے آسمانوں کا سمندر کیوں نہیں دیکھا فضاؤں کی کسک سے کچھ تقاضے بھی بدلتے ہیں ہوس لمحات کو تم نے کچل کر

فضائیں خشک تھیں گھر کی تو باہر کیوں نہیں دیکھا Read More »

اندھیرے بند کمروں میں پڑے تھے

غزل اندھیرے بند کمروں میں پڑے تھے اجالے سیر پر نکلے ہوئے تھے گھروں میں کھانستی تنہائیاں تھیں یہ سناٹے پرانی نسل کے تھے ہوس کی بستیاں آتش زدہ تھیں بڑے کڑوے کسیلے واقعے تھے صدائیں جھینگروں کی بڑھ رہی تھیں اندھیرے سیڑھیاں چڑھنے لگے تھے سہاگن تھے مری بستی کے موسم کھنکتی چوڑیاں پہنے

اندھیرے بند کمروں میں پڑے تھے Read More »

پیش منظر جو تماشے تھے پس منظر بھی تھے

غزل پیش منظر جو تماشے تھے پس منظر بھی تھے ہم ہی تھے مال غنیمت ہم ہی غارت گر بھی تھے آستینوں میں چھپا کر سانپ بھی لائے تھے لوگ شہر کی اس بھیڑ میں کچھ لوگ بازی گر بھی تھے برف منظر دھول کے بادل ہوا کے قہقہے جو کبھی دہلیز کے باہر تھے

پیش منظر جو تماشے تھے پس منظر بھی تھے Read More »

رات کے گنبد میں یادوں کا بسیرا ہو گیا ہے

غزل رات کے گنبد میں یادوں کا بسیرا ہو گیا ہے چاند کی قندیل جلتے ہی اجالا ہو گیا ہے خامشی کی آندھیاں باغی نظر آتی ہیں مجھ کو رات کالی ہے تو سناٹا بھی کالا ہو گیا ہے اب محبت ہے مروت ہے نہ اب انکساری آج کے اس دور میں ہر شخص ننگا

رات کے گنبد میں یادوں کا بسیرا ہو گیا ہے Read More »

نشاط درد کے موسم میں گر نمی کم ہے

غزل نشاط درد کے موسم میں گر نمی کم ہے فضا کے برگ شفق پر بھی تازگی کم ہے سراب بن کے خلاؤں میں گم نظارۂ سمت مجھے لگا کہ خلاؤں میں روشنی کم ہے عجیب لوگ ہیں کانٹوں پہ پھول رکھتے ہیں یہ جانتے ہوئے ان میں مقدری کم ہے نہ کوئی خواب نہ

نشاط درد کے موسم میں گر نمی کم ہے Read More »

نیم کے پتوں کا زخموں کو دھواں دے دیجئے

غزل نیم کے پتوں کا زخموں کو دھواں دے دیجئے پھر مری آنکھوں کو پہرے داریاں دے دیجئے ہو سکے تو یہ نوازش ہم فقیروں پر کریں بجھتے رنگوں کا ہمیں یہ آسماں دے دیجئے شب پرستوں کو بھی تسکین انا مل جائے گی ان کا حق ہے ان کو شب بیداریاں دے دیجئے شاخ

نیم کے پتوں کا زخموں کو دھواں دے دیجئے Read More »

ہم دشت بے کراں کی اذاں ہو گئے تو کیا

غزل ہم دشت بے کراں کی اذاں ہو گئے تو کیا وحشت میں اب کی بار زیاں ہو گئے تو کیا باسی گھٹن سے گھر کے اندھیرے نہ کم ہوئے ہم رات جگنوؤں کی دکاں ہو گئے تو کیا الجھن بڑھی تو چند خرابے خرید لائے سودے میں اب کی بار زیاں ہو گئے تو

ہم دشت بے کراں کی اذاں ہو گئے تو کیا Read More »

ایسے بھی کچھ لمحے یارو آئیں گے

غزل ایسے بھی کچھ لمحے یارو آئیں گے ہم مشکوک نظر سے دیکھے جائیں گے نیند بھری آنکھیں بھی دھوکہ دیتی ہیں جاگو گے تو خواب کہاں سے آئیں گے ان سے پردہ داری گھر میں مشکل ہے فرصت کے لمحے ہیں آئیں جائیں گے دھول ہوا جاتا ہے منظر راتوں کا خوابوں کا معیار

ایسے بھی کچھ لمحے یارو آئیں گے Read More »

ایسے بھی کچھ لمحے یارو آئیں گے

غزل ایسے بھی کچھ لمحے یارو آئیں گے ہم مشکوک نظر سے دیکھے جائیں گے نیند بھری آنکھیں بھی دھوکہ دیتی ہیں جاگو گے تو خواب کہاں سے آئیں گے ان سے پردہ داری گھر میں مشکل ہے فرصت کے لمحے ہیں آئیں جائیں گے دھول ہوا جاتا ہے منظر راتوں کا خوابوں کا معیار

ایسے بھی کچھ لمحے یارو آئیں گے Read More »