MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

بے تعلق روح کا جب جسم سے رشتہ ہوا

غزل بے تعلق روح کا جب جسم سے رشتہ ہوا گھر میں لا وارث پس منظر کا سناٹا ہوا دھوپ لہجے میں نوکیلاپن کہاں سے لائے گی ہم نے دیکھا ہے شفق سورج ابھی بجھتا ہوا چاہتا ہے دل کسی سے راز کی باتیں کرے پھول آدھی رات کا آنگن میں ہے مہکا ہوا سرخ […]

بے تعلق روح کا جب جسم سے رشتہ ہوا Read More »

مانا کہ زلزلہ تھا یہاں کم بہت ہی کم

غزل مانا کہ زلزلہ تھا یہاں کم بہت ہی کم بستی میں بچ گئے تھے مکاں کم بہت ہی کم میرے لہو کا ذائقہ چکھتا رہا تھا درد تنہائیاں تھیں رات جہاں کم بہت ہی کم کانٹوں کو سینچتی رہی پرچھائیوں کی فصل جب دھوپ کا تھا نام و نشاں کم بہت ہی کم آنگن

مانا کہ زلزلہ تھا یہاں کم بہت ہی کم Read More »

سازشوں کی بھیڑ میں تاریکیاں سر پر اٹھائے

غزل سازشوں کی بھیڑ میں تاریکیاں سر پر اٹھائے بڑھ رہے ہیں شام کے سائے دھواں سر پر اٹھائے ریگ زاروں میں بھٹکتی سوچ کے کچھ خشک لمحے تلخئ حالات کی ہیں داستاں سر پر اٹھائے خواہشوں کی آنچ میں تپتے بدن کی لذتیں ہیں اور وحشی رات ہے گمراہیاں سر پر اٹھائے چند گونگی

سازشوں کی بھیڑ میں تاریکیاں سر پر اٹھائے Read More »

مرا سینہ ہے مشرق آفتاب داغ ہجراں کا

غزل مرا سینہ ہے مشرق آفتاب داغ ہجراں کا طلوع صبح محشر چاک ہے میرے گریباں کا ازل سے دشمنی طاؤس و مار آپس میں رکھتے ہیں دل پر داغ کو کیوں کر ہے عشق اس زلف پیچاں کا کسی خورشید رو کو جذب دل نے آج کھینچا ہے کہ نور صبح صادق ہے غبار

مرا سینہ ہے مشرق آفتاب داغ ہجراں کا Read More »

آ گیا جب سے نظر وہ شوخ ہرجائی مجھے

غزل آ گیا جب سے نظر وہ شوخ ہرجائی مجھے کو بہ کو در در لیے پھرتی ہے رسوائی مجھے کام عاشق کو کسی کی عیب بینی سے نہیں حسن بینی کو خدا نے دی ہے بینائی مجھے جور سہتا ہوں بتوں کے ناتوانی کے سبب دل اٹھا لوں اس قدر کب ہے توانائی مجھے

آ گیا جب سے نظر وہ شوخ ہرجائی مجھے Read More »

لیتے لیتے کروٹیں تجھ بن جو گھبراتا ہوں میں

غزل لیتے لیتے کروٹیں تجھ بن جو گھبراتا ہوں میں نام لے لے کر ترا راتوں کو چلاتا ہوں میں غیر جب کہتا ہے اس پر میں بھی مرتا ہوں تب آہ وہ تو کیا مرتا ہے بس غیرت سے مر جاتا ہوں میں آ نکلتا ہے کبھی پر بات وہ کرتا نہیں بولتا ہے

لیتے لیتے کروٹیں تجھ بن جو گھبراتا ہوں میں Read More »

چین دنیا میں زمیں سے تا فلک دم بھر نہیں

غزل چین دنیا میں زمیں سے تا فلک دم بھر نہیں داغ ہیں یہ گل نہیں ناسور ہیں اختر نہیں سر رہے یا جائے کچھ ہم میکشوں کو ڈر نہیں کون سا مینائے مے اے محتسب بے سر نہیں وہ بت شیریں ادا کرتا ہے مجھ کو سنگسار یہ شکر پارے برستے ہیں جنوں پتھر

چین دنیا میں زمیں سے تا فلک دم بھر نہیں Read More »

یوں مجھے آپ سے اب کرتی ہے تقدیر جدا

غزل یوں مجھے آپ سے اب کرتی ہے تقدیر جدا جس طرح جنگ میں ہو قبضے سے شمشیر جدا مس کے زر ہونے سے بہتر ہے کمال انساں خاکساری ہے جدا اور ہے اکسیر جدا جائے دنداں لب سوفار ہوئے اے قاتل دہن زخم سے ہوگا نہ ترا تیر جدا مرض عشق میں پیٹھ اپنی

یوں مجھے آپ سے اب کرتی ہے تقدیر جدا Read More »

ہے دل سوزاں میں طور اس کی تجلی گاہ کا

غزل ہے دل سوزاں میں طور اس کی تجلی گاہ کا روئے آتش ناک ہر شعلہ ہے میری آہ کا وصل کیا ہم خاکساروں کو ہو اس دل خواہ کا خاک میں آلودہ ہونا کب ہے ممکن ماہ کا نور افشاں جب سے ہے دل میں خیال اس ماہ کا طور کا شعلہ دھواں ہے

ہے دل سوزاں میں طور اس کی تجلی گاہ کا Read More »

نہ جانے کون ترے کاخ و کو میں آئے گا

غزل نہ جانے کون ترے کاخ و کو میں آئے گا جو آئے گا وہ مری آرزو میں آئے گا میں جانتا ہوں مرے بعد میرے مرقد پر کوئی غبار مری جستجو میں آئے گا یہی تو سوچ کے جلتے ہیں مسجدوں کے چراغ درون شب یہاں کوئی وضو میں آئے گا ترے خیال کی

نہ جانے کون ترے کاخ و کو میں آئے گا Read More »