MOJ E SUKHAN

مانا کہ زلزلہ تھا یہاں کم بہت ہی کم

غزل

مانا کہ زلزلہ تھا یہاں کم بہت ہی کم
بستی میں بچ گئے تھے مکاں کم بہت ہی کم

میرے لہو کا ذائقہ چکھتا رہا تھا درد
تنہائیاں تھیں رات جہاں کم بہت ہی کم

کانٹوں کو سینچتی رہی پرچھائیوں کی فصل
جب دھوپ کا تھا نام و نشاں کم بہت ہی کم

آنگن میں دھوپ دھوپ کو اوڑھے اداسیاں
گھر میں تھے زندگی کے نشاں کم بہت ہی کم

مفلوج رات کرب کے بستر پہ لیٹ کر
کرتی ہے اب تو آہ و فغاں کم بہت ہی کم

کیوں دوستوں کی بھیڑ سے گھبرا نہ جائے دل
دشمن تو رہ گئے ہیں یہاں کم بہت ہی کم

ہم جب سے پتھروں کی تجارت میں لگ گئے
ہے دوستیٔ شیشہ گراں کم بہت ہی کم

اتنی اذیتوں سے گزرنے کے بعد رندؔ
خود پر ہے زندگی کا گماں کم بہت ہی کم

پی پی سری واستو رند

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم