MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اپنا اپنا دکھ بتلانا ہوتا ہے

غزل اپنا اپنا دکھ بتلانا ہوتا ہے مٹی سے تصویر میں آنا ہوتا ہے میری صبح ذرا کچھ دیر سے ہوتی ہے مجھے کسی کو خواب سنانا ہوتا ہے نئے نئے منظر کا حصہ بنتا ہوں جیسے جیسے جسم پرانا ہوتا ہے اک چڑیا مجھ سے بھی پہلے اٹھتی ہے جیسے اس کو دفتر جانا […]

اپنا اپنا دکھ بتلانا ہوتا ہے Read More »

دیکھنے والوں کو کچھ اور دکھایا گیا ہے

غزل دیکھنے والوں کو کچھ اور دکھایا گیا ہے اصل جو مال تھا وہ ایسے چھپایا گیا ہے جانے کے واسطے دیوار بنائی گئی ہے روکنے کے لیے دروازہ بنایا گیا ہے اپنی آنکھوں کو بھی پہچان نہیں پاتا ہوں ایک مدت سے یہاں کوئی نہ آیا گیا ہے سیدھے چلتے ہیں تو دیوار سے

دیکھنے والوں کو کچھ اور دکھایا گیا ہے Read More »

کوئی بھی خوش ہو میں اپنی خوشی سمجھتا ہوں

غزل کوئی بھی خوش ہو میں اپنی خوشی سمجھتا ہوں میں زندہ شخص ہوں اور زندگی سمجھتا ہوں کئی تو تم سے بھی بہتر ملے ہیں لوگ مجھے مگر کمی ہے جو اس کو کمی سمجھتا ہوں یہ وہ دکھاتا ہے جو روشنی دکھاتی نہیں سو میں اندھیرے کو بھی روشنی سمجھتا ہوں بہت سی

کوئی بھی خوش ہو میں اپنی خوشی سمجھتا ہوں Read More »

عشق کرتا ہوں، تقاضا نہیں کر سکتا میں

غزل عشق کرتا ہوں، تقاضا نہیں کر سکتا میں مرا دامن ہے سو میلا نہیں کر سکتا میں اتنی فرصت ہے کہ اک دنیا بنا سکتا ہوں پر کوئی ہے جسے اپنا نہیں کر سکتا میں کتنے لوگوں نے ان آنکھوں سے شفا پائی ہے ایک بیمار کو اچھا نہیں کر سکتا میں گھر سے

عشق کرتا ہوں، تقاضا نہیں کر سکتا میں Read More »

دو عمروں کی روئی دھن کر آیا ہوں

غزل دو عمروں کی روئی دھن کر آیا ہوں میں پردیس سے خود کو بن کر آیا ہوں دریا سے یاری بھی کتنی مشکل ہے میں کشتی کے ٹکڑے چن کر آیا ہوں تم کو کتنا شوق ہے فون پہ باتوں کا آج بھی باس کی باتیں سن کر آیا ہوں جانے کون چرا لیتا

دو عمروں کی روئی دھن کر آیا ہوں Read More »

ہمارا آئنہ بے کار ہو گیا تو پھر

غزل ہمارا آئنہ بے کار ہو گیا تو پھر تمہارا حسن طرحدار ہو گیا تو پھر ملا کے خاک میں وہ سوچتا رہا برسوں میں آئنے میں نمودار ہو گیا تو پھر رکاوٹیں تو سفر کا جواز ہوتی ہیں یہ راستہ کہیں ہموار ہو گیا تو پھر وہ ماہتاب ہے، میں جھیل اور سفر درپیش

ہمارا آئنہ بے کار ہو گیا تو پھر Read More »

پھول کتابیں لے جا، تنہا رہنے دے

غزل پھول کتابیں لے جا، تنہا رہنے دے میرا کمرہ، میرا کمرہ رہنے دے یار یہ چار قدم کی کیا ہم راہی ہے! تھوڑی دیر تو دل کو چلتا رہنے دے اب بھی اس سے تتلی ملنے آتی ہے بالکنی میں ٹوٹا گملا رہنے دے کاٹ دے چاہے میری ساری شاخوں کو جس پر جھول

پھول کتابیں لے جا، تنہا رہنے دے Read More »

ٹوٹی میز اور جلی کتابیں رہ جائیں گی

غزل ٹوٹی میز اور جلی کتابیں رہ جائیں گی ڈرون گرے گا امن کی باتیں رہ جائیں گی لڑنے والے روشن صبحیں لے جائیں گے میری خاطر اندھی شامیں رہ جائیں گی سچ لکھنے والے سب ہجرت کر جائیں گے بازاروں میں قلم دواتیں رہ جائیں گی یوں لگتا ہے رستے میں سب لٹ جائے

ٹوٹی میز اور جلی کتابیں رہ جائیں گی Read More »

بول سکتے ہیں مگر بات نہیں کر سکتے

غزل بول سکتے ہیں مگر بات نہیں کر سکتے وقت ایسا ہے سوالات نہیں کر سکتے فیس بک کا بھی تعلق ہے تعلق کیسا دیکھ سکتے ہیں ملاقات نہیں کر سکتے اتنا گہرا ہے یہاں کنج خرافات کا شور لوگ اب طرفہ مناجات نہیں کر سکتے اڑ تو جائیں شجر خام کے زنداں سے ہم

بول سکتے ہیں مگر بات نہیں کر سکتے Read More »

غموں کی بھیڑ میں رستہ بنا کے چلتا ہوں

غزل غموں کی بھیڑ میں رستہ بنا کے چلتا ہوں علی کی آل ہوں میں سر اٹھا کے چلتا ہوں ذرا سنبھل کے مرے راستے میں تم آنا میں اپنے گھر سے لہو آزما کے چلتا ہوں یہ تیرا شہر مری سانس چھین لیتا ہے میں اپنے گاؤں میں سینہ پھلا کے چلتا ہوں جو

غموں کی بھیڑ میں رستہ بنا کے چلتا ہوں Read More »