MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تنہائی جہاں ذکر رخ یار کرے ہے

غزل تنہائی جہاں ذکر رخ یار کرے ہے ہر غم کو چراغ سر دیوار کرے ہے وہ پرسش غم ہو کہ ترا لطف و کرم ہو دیوانہ تو ہر بات سے انکار کرے ہے مدت ہوئی ہم شہر تمنا سے چلے آئے کیوں ہم سے صبا ذکر رخ یار کرے ہے بے ربط سی نظروں […]

تنہائی جہاں ذکر رخ یار کرے ہے Read More »

نیرنگیٔ بہار جنوں ہم بھی دیکھ لیں

غزل نیرنگیٔ بہار جنوں ہم بھی دیکھ لیں کیا گل کھلائے گریۂ شبنم بھی دیکھ لیں سنتے ہیں وہ ہے دشمن ایمان و آگہی موج مئے نشاط کا عالم بھی دیکھ لیں لے سر اٹھا رہے ہیں ترے آستاں سے ہم ہوتا ہے کون عشق کا محرم بھی دیکھ لیں شاید غم جہاں کے اسیروں

نیرنگیٔ بہار جنوں ہم بھی دیکھ لیں Read More »

چاند کے دیس میں ہے جی کا زیاں سوداگر

غزل چاند کے دیس میں ہے جی کا زیاں سوداگر مول کیا دو گے غم دل کا وہاں سوداگر اب وہ اگلے سے یہاں مصر کے بازار نہیں آ گئے شہر تمنا میں کہاں سوداگر دل کا ہر زخم ہے آئینہ تری صورت کا تو نے دیکھی نہیں شیشوں کی دکاں سوداگر ہر گلی چپ

چاند کے دیس میں ہے جی کا زیاں سوداگر Read More »

کسی برگد کا سر راہ نہ احسان لیا

غزل کسی برگد کا سر راہ نہ احسان لیا اپنا سایہ تھا کڑی دھوپ میں خود تان لیا بھیس بدلے تو بہت ہم نے ہوا کے ڈر سے سنگ و دیوار نے ہر شہر میں پہچان لیا لوگ خوابوں کے دریچوں میں چھپے بیٹھے ہیں حاکم شہر نے ہر شخص کا ایمان لیا نقد جاں

کسی برگد کا سر راہ نہ احسان لیا Read More »

لہو نہ آنکھ سے ٹپکا نہ زخم دل ابھرے

غزل لہو نہ آنکھ سے ٹپکا نہ زخم دل ابھرے بھری بہار کے یہ دن بہت گراں گزرے وہ پر فریب نگاہیں وہ اعتماد کی موت نہ جانے ذہن پہ ماضی کے نقش کیوں ابھرے حسین لمحے مری زندگی کے لوٹا دے جو آرزو میں کٹے تیری یاد میں گزرے جنوں نواز نگاہیں ہیں رہ

لہو نہ آنکھ سے ٹپکا نہ زخم دل ابھرے Read More »

جانے کیا سوچ کے ہم تجھ سے وفا کرتے ہیں

غزل جانے کیا سوچ کے ہم تجھ سے وفا کرتے ہیں قرض ہے پچھلے جنم کا سو ادا کرتے ہیں کیا ہوا جام اٹھاتے ہی بھر آئیں آنکھیں ایسے طوفان تو ہر شام اٹھا کرتے ہیں دل کے زخموں پہ نہ جاؤ کہ بڑی مدت سے یہ دیے یوں ہی سر شام جلا کرتے ہیں

جانے کیا سوچ کے ہم تجھ سے وفا کرتے ہیں Read More »

یہی نہیں ہے کہ شانوں سے خون بہتا ہے

غزل یہی نہیں ہے کہ شانوں سے خون بہتا ہے ابھی تو اپنی میانوں سے خون بہتا ہے وہ گال سرخ ہوئے ہوں تو یوں لگیں جیسے سفید ریشمی تھانوں سے خون بہتا ہے یہ خامشی وہ بلا ہے کہ چیخ اٹھے اگر تو سننے والوں کے کانوں سے خون بہتا ہے ہمارے خواب پٹکتے

یہی نہیں ہے کہ شانوں سے خون بہتا ہے Read More »

اب اس سے بڑھ کے مجھے اور کیا سہولت ہو

غزل اب اس سے بڑھ کے مجھے اور کیا سہولت ہو میں تجھ کو یاد کروں سانس کی بھی فرصت ہو فضا میں صرف ترے قہقہے رہیں باقی اور اس زمین پہ تیری طلب سلامت ہو تمہارے نام پہ جھگڑا ہو اور اس کے بعد ہو ایسی جنگ کہ جس میں مری ہلاکت ہو ترے

اب اس سے بڑھ کے مجھے اور کیا سہولت ہو Read More »

کسی کے دکھ پہ اگر ہم ملال کرتے ہیں

غزل کسی کے دکھ پہ اگر ہم ملال کرتے ہیں عجیب لوگ ہیں الٹا سوال کرتے ہیں کبھی کبھی تو اسے پھونکنے کو جی چاہے وہ گھر کہ جس کی بہت دیکھ بھال کرتے ہیں تمہارے ساتھ نہیں مسئلہ یہ شکر کرو جو تم کو دیکھ کے سانسیں بحال کرتے ہیں تمہیں بکھرتے ہوئے پھول

کسی کے دکھ پہ اگر ہم ملال کرتے ہیں Read More »

لمحوں میں ایک عمر کی محنت خراب کی

غزل لمحوں میں ایک عمر کی محنت خراب کی اس دھوپ نے مکان کی رنگت خراب کی رستے میں پھول دیکھ کے ہم لوگ ڈر گئے کس نے ہمارے پاؤں کی عادت خراب کی عجلت پسند ہاتھ میں آئے ہوئے تھے ہم کچھ گاہکوں نے پوچھ کے قیمت خراب کی یعنی میں اس کے بعد

لمحوں میں ایک عمر کی محنت خراب کی Read More »