MOJ E SUKHAN

یہی نہیں ہے کہ شانوں سے خون بہتا ہے

غزل

یہی نہیں ہے کہ شانوں سے خون بہتا ہے
ابھی تو اپنی میانوں سے خون بہتا ہے

وہ گال سرخ ہوئے ہوں تو یوں لگیں جیسے
سفید ریشمی تھانوں سے خون بہتا ہے

یہ خامشی وہ بلا ہے کہ چیخ اٹھے اگر
تو سننے والوں کے کانوں سے خون بہتا ہے

ہمارے خواب پٹکتے ہیں یوں ہمارے سر
تمام رات سرہانوں سے خون بہتا ہے

وہ جنگ جیت کے اونٹوں کا رخ بدلنے لگے
ابھی تو ان کی مچانوں سے خون بہتا ہے

یہ اپنے دور کے سب سے بڑے منافق ہیں
اسی لیے تو زبانوں سے خون بہتا ہے

تمام وقت گزرتا ہے زخم سہلاتے
طرح طرح کے بہانوں سے خون بہتا ہے

ہمیں تو علم سکھایا نہیں ہے تھونپا ہے
ہمارے علمی خزانوں سے خون بہتا ہے

نہ جانے کتنے زمانے گزر گئے ساحر
نہ جانے کتنے زمانوں سے خون بہتا ہے

جہانزیب ساحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم