MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دل یہ کہتا ہے کہ رویا جائے

غزل دل یہ کہتا ہے کہ رویا جائے آنکھ کے پیالوں کو دھویا جائے لے اڑا خواب تو آنکھوں سے کوئی اب نہ آرام سے سویا جائے ہار جب ٹوٹ کے بکھرے ہر سو آنسوؤں کو ہی پرویا جائے دھیان کا شہر تو کھونے کا نہیں آؤ اس شہر میں کھویا جائے رات ہنستی ہے […]

دل یہ کہتا ہے کہ رویا جائے Read More »

لمحہ لمحہ بیت چکا ہے اب جو تم پچھتاؤ تو کیا

غزل لمحہ لمحہ بیت چکا ہے اب جو تم پچھتاؤ تو کیا بھولی بسری یادیں سب کے آگے بھی دہراؤ تو کیا کون پرایا درد سمیٹے کون کسی کا یار بنے اپنا زخم ہے اپنا پیارے لوگوں کو دکھلاؤ تو کیا پہلے تو تم آگ لگا کر سب کچھ جلتا چھوڑ گئے دیواریں تاریک ہوئی

لمحہ لمحہ بیت چکا ہے اب جو تم پچھتاؤ تو کیا Read More »

پھیلا کے سر پہ درد کی چادر چلا گیا

غزل پھیلا کے سر پہ درد کی چادر چلا گیا اک شخص میری روح پہ نشتر چلا گیا مجھ سے خطا ہوئی تھی کہ ایسی مرا خدا ناراض ہو کے شہر سے باہر چلا گیا شیشے لہولہان پڑے ہیں جو فرش پر کھڑکی پہ کوئی مار کے پتھر چلا گیا باہر کا شور اتنا گراں

پھیلا کے سر پہ درد کی چادر چلا گیا Read More »

کھلتا بدن گلاب کی جس کو نظر لگے

غزل کھلتا بدن گلاب کی جس کو نظر لگے خوشبو کی بھیڑ میں کوئی تجھ سا مگر لگے جب سے دلوں کے بیچ میں دیوار و در لگے گلشن کے سارے پیڑ ہمیں بے ثمر لگے کوئے جنوں کی مٹ گئی پہچان سب مگر خوشبو جہاں رکے وہیں اس کا ہی گھر لگے کابل ہو

کھلتا بدن گلاب کی جس کو نظر لگے Read More »

شعلہ ہے پھول پھول چمن تک نہ آئیو

غزل شعلہ ہے پھول پھول چمن تک نہ آئیو شادابیٔ بہار سے دھوکا نہ کھائیو مدت ہوئی وہ کوئے ملامت اجڑ گیا اب کے برس چراغ وفا مت جلائیو دامن سے ہم نے گرد تعلق بھی جھاڑ دی آسودگان ہجر کے اب منہ نہ آئیو ان مسکراہٹوں میں دبی ہے غموں کی آنچ چہرے کے

شعلہ ہے پھول پھول چمن تک نہ آئیو Read More »

بے سبب راہ میں کیوں آہ و بکا کی ہوگی

غزل بے سبب راہ میں کیوں آہ و بکا کی ہوگی زندگی ہم نے کہیں تجھ سے خطا کی ہوگی وہی تپتی ہوئی دھرتی وہی اڑتے بادل شہر در شہر یہی شکل ہوا کی ہوگی پھر جنم لیں گے ملن جسم کا ہوگا لیکن وہی چادر وہی دیوار حیا کی ہوگی سنگ و دیوار سے

بے سبب راہ میں کیوں آہ و بکا کی ہوگی Read More »

آج ہوگا نہ تماشا کوئی ہونے والا

غزل آج ہوگا نہ تماشا کوئی ہونے والا جا چکا خون میں پوشاک بھگونے والا جس سے تا حشر رگ جاں میں اجالا کرتے داغ ہوتا کوئی بے داغ نہ ہونے والا تک رہا ہوں بڑی مدت سے بڑی حسرت سے گھر کی دہلیز پہ بیٹھا ہے کھلونے والا اہل غم سارے سکندر کی طرف

آج ہوگا نہ تماشا کوئی ہونے والا Read More »

منہ دیکھے کی باتیں ساری وعدے رنگیں خواب سنہرے

غزل منہ دیکھے کی باتیں ساری وعدے رنگیں خواب سنہرے دلی جا کر بھول نہ جانا پھول بدن یہ چاند سے چہرے تم کو تو اپنا سمجھا تھا تم سب سے بیگانے ٹھہرے تم نے دل میں جھانکا ہوتا کتنے زخم ہیں کتنے گہرے لاکھ پجاری دیپ جلائیں خوں ٹپکائیں جی سے جائیں بت خانے

منہ دیکھے کی باتیں ساری وعدے رنگیں خواب سنہرے Read More »

پورب دیس کی یادیں لایا پھر موسم کا تیکھا پن

غزل پورب دیس کی یادیں لایا پھر موسم کا تیکھا پن مجھ سے پہروں انس کرے ہے تنہائی کا سونا پن دل کے رنگ محل میں جیسے برسوں کوئی نہ جھانکا ہو تصویروں کی بے نور آنکھیں شیشہ شیشہ دھندلا پن کتنی بار لہو رویا ہے کتنی بار جلے ہیں چراغ کتنے غموں کی آنچ

پورب دیس کی یادیں لایا پھر موسم کا تیکھا پن Read More »

کیسا جشن بہار ہے اپنا

غزل کیسا جشن بہار ہے اپنا گل پہ سایہ بھی بار ہے اپنا سسکیاں لے رہی ہے شام فراق پھر مجھے انتظار ہے اپنا عشق کا راگ کس نے چھیڑ دیا ہر نفس شعلہ بار ہے اپنا کیا گلہ تیری کم نگاہی سے کب ہمیں اعتبار ہے اپنا نیچی نظروں سے پوچھ مت احوال ضبط

کیسا جشن بہار ہے اپنا Read More »