MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

خوشی بھی کس نے کہا وجہ غم نہیں ہوتی

غزل خوشی بھی کس نے کہا وجہ غم نہیں ہوتی بتا وہ شام جو شام الم نہیں ہوتی ہم اس جگہ پہ کرائے کے گھر میں رہتے ہیں ہماری رائے کبھی محترم نہیں ہوتی ترے خیال کے آتے ہی لوٹنے سے لگا ہر ایک چیز اداسی میں ضم نہیں ہوتی جھکے ہوئے ہیں یہ سر […]

خوشی بھی کس نے کہا وجہ غم نہیں ہوتی Read More »

خوشی بھی کس نے کہا وجہ غم نہیں ہوتی

غزل خوشی بھی کس نے کہا وجہ غم نہیں ہوتی بتا وہ شام جو شام الم نہیں ہوتی ہم اس جگہ پہ کرائے کے گھر میں رہتے ہیں ہماری رائے کبھی محترم نہیں ہوتی ترے خیال کے آتے ہی لوٹنے سے لگا ہر ایک چیز اداسی میں ضم نہیں ہوتی جھکے ہوئے ہیں یہ سر

خوشی بھی کس نے کہا وجہ غم نہیں ہوتی Read More »

لٹنے والوں کا مددگار نہیں ہے کوئی

غزل لٹنے والوں کا مددگار نہیں ہے کوئی اس قبیلے کا بھی سردار نہیں ہے کوئی میں وہ محروم تمنا ہوں کہ جس کی خاطر بھری بستی میں عزادار نہیں ہے کوئی شاہ زادی تری آنکھوں میں یہ دہشت کیسی پھول ہیں ہاتھ میں تلوار نہیں ہے کوئی دل کسی وقت کسی پر بھی فدا

لٹنے والوں کا مددگار نہیں ہے کوئی Read More »

کئی دنوں سے مروت نہیں ہوئی مجھ سے

غزل کئی دنوں سے مروت نہیں ہوئی مجھ سے اسے بھی کوئی شکایت نہیں ہوئی مجھ سے بہت سے کام دکھاوے کے کر رہا تھا میں خدا کا شکر عبادت نہیں ہوئی مجھ سے نئے سرے سے محبت کی آرزو تھی مگر نئے سرے سے محبت نہیں ہوئی مجھ سے یہ لوگ اپنے عقیدے سے

کئی دنوں سے مروت نہیں ہوئی مجھ سے Read More »

وقت کے ساتھ نئی سوچ میں ڈھل جاتے ہیں

غزل وقت کے ساتھ نئی سوچ میں ڈھل جاتے ہیں ہم وہ سکے ہیں جو ہر دور میں چل جاتے ہیں اتنے مانوس ہوئے مجھ سے مرے گھر کے چراغ شام ہوتے ہی مجھے دیکھ کے جل جاتے ہیں دیکھ لیتا ہوں جو کچھ دیر تری آنکھوں کو تیری آنکھوں سے مرے خواب بدل جاتے

وقت کے ساتھ نئی سوچ میں ڈھل جاتے ہیں Read More »

پیش خیمہ یہ کسی ایک مصیبت کا نہیں

غزل پیش خیمہ یہ کسی ایک مصیبت کا نہیں دکھ ہے کچھ اور مری جان مسافت کا نہیں ہم مضافات سے آئے ہوئے لوگوں کا میاں مسئلہ رزق کا ہوتا ہے محبت کا نہیں جسم کی جیت کوئی جیت نہیں میرے لیے یہ وہ سامان ہے جو میری ضرورت کا نہیں تھوڑی کوشش سے ہی

پیش خیمہ یہ کسی ایک مصیبت کا نہیں Read More »

بڑے خلوص سے اپنا بنا لیا تھا مجھے

غزل بڑے خلوص سے اپنا بنا لیا تھا مجھے تمہارے ہجر نے زندہ بچا لیا تھا مجھے یقین جان بہت ڈر گیا تھا اس دن جب گلے سے تو نے اچانک لگا لیا تھا مجھے بچھڑ گئے ہیں تو سارا قصور ہے تیرا کہ تو نے سر پہ جو اتنا چڑھا لیا تھا مجھے میں

بڑے خلوص سے اپنا بنا لیا تھا مجھے Read More »

ہم ایسے لوگ کہاں منزلوں کو پاتے ہیں

غزل ہم ایسے لوگ کہاں منزلوں کو پاتے ہیں ہم ایسے لوگ فقط راستے بناتے ہیں یہ تیرے جسم کو چھو کر پتہ چلا ہے مجھے کہ نرم پھول بہت جلد سوکھ جاتے ہیں یہ کام ہجر میں بدعت شمار ہوتا ہے مگر یہ دیکھ کہ ہم پھر بھی مسکراتے ہیں ترا تو خیر کوئی

ہم ایسے لوگ کہاں منزلوں کو پاتے ہیں Read More »

میں تہی دست محبت میں بھلا کیا دیتا

غزل میں تہی دست محبت میں بھلا کیا دیتا تیرے حصے سے مگر تجھ کو زیادہ دیتا زندگی تو نے بڑی دیر لگا دی ورنہ میں تجھے ملتا ترے گال پہ بوسہ دیتا بعض اوقات اگر شعر نہ ہوتا مجھ سے اس کی آنکھوں کا اشارہ مجھے مصرعہ دیتا میں زمانے کو بناتا تو زمانے

میں تہی دست محبت میں بھلا کیا دیتا Read More »

وہ چاند رت کے حسین لمحوں کی شاعری ہے

غزل وہ چاند رت کے حسین لمحوں کی شاعری ہے کہ اس کی باتیں ہزار سالوں کی شاعری ہے یہ خشک پتے کہ جیسے راہوں میں لفظ بکھرے اداس موسم میں ان درختوں کی شاعری ہے ہماری آنکھیں اداس غزلوں کے قافیے ہیں ہمارا چہرہ پرانے وقتوں کی شاعری ہے تمہارا ہنسنا ہماری نظموں کی

وہ چاند رت کے حسین لمحوں کی شاعری ہے Read More »