MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تری چشم طرب کو دیکھنا پڑتا ہے پر نم بھی

غزل تری چشم طرب کو دیکھنا پڑتا ہے پر نم بھی محبت خندۂ بے باک بھی ہے گریۂ غم بھی تھکن تیرے بدن کی عذر کوئی ڈھونڈھ ہی لیتی حدیث محفل شب کہہ رہی ہے زلف برہم بھی بقدر دل یہاں سے شعلۂ جاں سوز ملتا ہے چراغ حسن کی لو شوخ بھی ہے اور […]

تری چشم طرب کو دیکھنا پڑتا ہے پر نم بھی Read More »

اک شخص رات بند قبا کھولتا رہا

غزل اک شخص رات بند قبا کھولتا رہا شب کی سیاہیوں میں شفق گھولتا رہا تنہائیوں میں آتی رہی جب بھی اس کی یاد سایہ سا اک قریب مرے ڈولتا رہا حسن بہار خوب مگر دیدۂ بہار موتی چمن کی خاک پہ کیوں رولتا رہا اس نے سکوت کو بھی تکلم سمجھ لیا کچھ اس

اک شخص رات بند قبا کھولتا رہا Read More »

یا دن کی باتیں ہوتی ہیں یا رات کی باتیں ہوتی ہیں

غزل یا دن کی باتیں ہوتی ہیں یا رات کی باتیں ہوتی ہیں یہ دنیا ہے اس دنیا میں ہر بات کی باتیں ہوتی ہیں دن رات تمہاری محفل میں دن رات کی باتیں ہوتی ہیں کچھ بات نہیں ہوتی لیکن بے بات کی باتیں ہوتی ہیں جس بات کی باتیں ہوتی ہیں اس بات

یا دن کی باتیں ہوتی ہیں یا رات کی باتیں ہوتی ہیں Read More »

دیکھنے کو تو کیا کیا نہ دیکھا

نعتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیکھنے کو تو کیا کیا نہ دیکھا تجھ کو دیکھا تو تجھ سا نہ دیکھا در ہی جب مصطفیٰ کا نہ دیکھا سب برابر ہے دیکھا نہ دیکھا ان کو پایا تو کیا کیا نہ پایا ان کو دیکھا تو کیا کیا نہ دیکھا ان کے پردوں کے جلوے

دیکھنے کو تو کیا کیا نہ دیکھا Read More »

دل میں درد شہ کونین کی دولت ہے بڑی

نعت، نبی صلی اللہ علیہ وسلم دل میں درد شہ کونین کی دولت ہے بڑی ہوں تو نادار میں لیکن مری قیمت ہے بڑی حشر میں گرمی خورشید قیامت ہے بڑی لیکن ایسے میرے سرکار کی رحمت ہے بڑی کملی والے محشر میں میرا پردہ رکھ لے آج کے دن ترے مجرم کو ندامت ہے

دل میں درد شہ کونین کی دولت ہے بڑی Read More »

سر میدان محشر جب مری فرد عمل نکلی

نعتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سر میدان محشر جب مری فرد عمل نکلی تو سب سے پہلے اس میں نعت حضرت کی غزل نکلی طبیعت ان کے دیوانوں کی اب کچھ کچھ سنبھل نکلی ہوائے دشت طیبہ گلشن جنت میں چل نکلی بڑا دعویٰ تھا خورشید قیامت کو حرارت کا ترے ابر کرم کو

سر میدان محشر جب مری فرد عمل نکلی Read More »

اللہ نے یوں شان بڑھائی ترے در کی

نعتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ نے یوں شان بڑھائی ترے در کی بخشی ہے ملائک کو گدائی ترے در کی پانے کو تو خورشید و قمر چرخ نے پائے کیا پایا اگر خاک نہ پائی ترے در کی جنت نے اتارے تو بہت نور کے نقشے تصویر مگر ہاتھ نہ آئی ترے در

اللہ نے یوں شان بڑھائی ترے در کی Read More »

نہ کہیں سے دور ہیں منزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے

نعتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہ کہیں سے دور ہیں منزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے جسے چاہیں اس کو نواز دیں یہ در حبیب کی بات ہے جسے چاہا در پہ بلا لیا جسے چاہا اپنا بنا لیا یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے وہ خدا

نہ کہیں سے دور ہیں منزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے Read More »

دیکھ آیا ہوں جب سے در و دیوارِ مدینہ

نعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ آیا ہوں جب سے در و دیوارِ مدینہ بند آنکھوں سے بھی ہوتا ہے دیدارِ مدینہ گلزارِ مدینہ کی ہوا کھائی ہے جب سے ہر سانس میں ہے نکہتِ گلزارِ مدینہ روشن ہے سرِ شہرِ خیال اب بھی وہ نور فشاں گنبد و مینارِ مدینہ اُس صبح کے

دیکھ آیا ہوں جب سے در و دیوارِ مدینہ Read More »

کثرتِ جلوہ سے چشمِ شوق کس مشکل میں ہے

غزل کثرتِ جلوہ سے چشمِ شوق کس مشکل میں ہے اتنی شمعیں کب ہیں جتنی روشنی محفل میں ہے چشمِ حیراں کو کوئی جلوہ نظر آتا نہیں دل کی بیتابی یہ کہتی ہے کہ وہ محفل میں ہے شوق کی دیوانگی طے کر گئی کتنے مقام عقل جس منزل پہ تھی اب تک اسی منزل

کثرتِ جلوہ سے چشمِ شوق کس مشکل میں ہے Read More »