تری چشم طرب کو دیکھنا پڑتا ہے پر نم بھی
غزل تری چشم طرب کو دیکھنا پڑتا ہے پر نم بھی محبت خندۂ بے باک بھی ہے گریۂ غم بھی تھکن تیرے بدن کی عذر کوئی ڈھونڈھ ہی لیتی حدیث محفل شب کہہ رہی ہے زلف برہم بھی بقدر دل یہاں سے شعلۂ جاں سوز ملتا ہے چراغ حسن کی لو شوخ بھی ہے اور […]
تری چشم طرب کو دیکھنا پڑتا ہے پر نم بھی Read More »