MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

مست آنکھوں کی قسم کھانے کا موسم آ گیا

غزل مست آنکھوں کی قسم کھانے کا موسم آ گیا جام کو شیشے سے ٹکرانے کا موسم آ گیا عصمت توبہ کو ٹھکرانے کا موسم آ گیا آگیا پی کر بہک جانے کا موسم آ گیا پھر گھٹا چھائی بہک جانے کا موسم آ گیا جام کا شیشے کا پیمانے کا موسم آ گیا حشر […]

مست آنکھوں کی قسم کھانے کا موسم آ گیا Read More »

مری ہر نظر میں ہے تشنگی تری ہر نگاہ میں جام ہے

غزل نہ تو میکدے کی ہے جستجو نہ تلاش بادہ و جام ہے جو نفس نفس کو پلا گئی مجھے اس نگاہ سے کام ہے بس اسی خطا پہ مرے لئے مے لا لہ گوں ہے نہ جام ہے کہ گدائیء درِ مے کدہ مری تشنگی پہ حرام ہے نہ کرم ہے ان کا نہ

مری ہر نظر میں ہے تشنگی تری ہر نگاہ میں جام ہے Read More »

دل پہ زخم کھاتے ہیں جان سے گزرتے ہیں

غزل دل پہ زخم کھاتے ہیں جان سے گزرتے ہیں جرم صرف اتنا ہے ان کو پیار کرتے ہیں وہ جو پھیر کر نظریں پاس سے گزرتے ہیں اے غم زمانہ ہم تجھ کو یاد کرتے ہیں وہ دیار جاناں ہو یا جوار مے خانہ گردشیں ٹھہرتی ہیں ہم جہاں ٹھہرتے ہیں اعتبار بڑھتا ہے

دل پہ زخم کھاتے ہیں جان سے گزرتے ہیں Read More »

گردشوں میں بھی ہم راستہ پا گئے

غزل گردشوں میں بھی ہم راستہ پا گئے جس گلی سے چلے تھے وہیں آ گئے ناگہاں اس نے جب پرسش حال کی آنکھ نم ہو گئی ہونٹ تھرا گئے ذکر جب بھی چھڑا ہے وفا کا کہیں جانے کیوں ہم کو کچھ دوست یاد آ گئے ہاتھ الجھنے لگے جیب و داماں سے کیوں

گردشوں میں بھی ہم راستہ پا گئے Read More »

وہ نگاہوں کو جب بدلتے ہیں

غزل وہ نگاہوں کو جب بدلتے ہیں دل سنبھالے نہیں سنبھلتے ہیں منزلیں دور ہیں کبھی نزدیک ہر قدم فاصلے بدلتے ہیں کون جانے کہ اک تبسم سے کتنے مفہوم غم نکلتے ہیں نہ گزر اتنی کج روی سے کہ لوگ تیرے نقش قدم پہ چلتے ہیں آگ بھی ان گھروں کو لگتی ہے جن

وہ نگاہوں کو جب بدلتے ہیں Read More »

دامن دل ہے تار تار اپنا

غزل دامن دل ہے تار تار اپنا کام کر ہی گئی بہار اپنا جب سے تسکین دے گیا ہے کوئی اور بھی دل ہے بے قرار اپنا دیکھ کر بھی انہیں نہ دیکھ سکے رہ گیا شوق انتظار اپنا جستجو آ گئی سر منزل رہ گیا راہ میں غبار اپنا وہ نظر پھر گئی تو

دامن دل ہے تار تار اپنا Read More »

گزر گئی جو چمن پر وہ کوئی کیا جانے

غزل گزر گئی جو چمن پر وہ کوئی کیا جانے جھڑے ہوئے ہیں بہار و خزاں کے افسانے جہاں پہ چاک گریباں بھی چاک دل بن جائے گزر رہے ہیں اب ان منزلوں سے دیوانے مرے لبوں کا تبسم تو سب نے دیکھ لیا جو دل پہ بیت رہی ہے وہ کوئی کیا جانے ترے

گزر گئی جو چمن پر وہ کوئی کیا جانے Read More »

ہر موڑ نئی اک الجھن ہے قدموں کا سنبھلنا مشکل ہے

غزل ہر موڑ نئی اک الجھن ہے قدموں کا سنبھلنا مشکل ہے وہ ساتھ نہ دیں پھر دھوپ تو کیا سائے میں بھی چلنا مشکل ہے یاران سفر ہیں تیز قدم اے کشمکش دل کیا ہوگا رکتا ہوں تو بچھڑا جاتا ہوں چلتا ہوں تو چلنا مشکل ہے اب ہم پہ کھلا یہ راز چمن

ہر موڑ نئی اک الجھن ہے قدموں کا سنبھلنا مشکل ہے Read More »

نثری نظم تحریر پروفیسر عاقل احمد

نثری نظم تحریر پروفیسر عاقل احمد ’نظم‘ (Poem/Poetry ) شعری اصطلاح ہے۔اس کے لغوی معنی لڑی،پرونا، ترتیب، تشکیل، بندوبست، انتظام، صنعت،موزوں، کلام اور شعر وغیرہ ہیں۔ یعنی بے ترتیب یا بکھرے ہوئے الفاظ کو موزوں اورخاص ترتیب کے ساتھ پیش کرنا نظم ہے۔لیکن نظم کی یہ تعریف مکمل نہیں ہے۔اس کی تعریف ان لفظوں میں

نثری نظم تحریر پروفیسر عاقل احمد Read More »

خاک ہو کر بھی آسماں ڈھونڈا

غزل خاک ہو کر بھی آسماں ڈھونڈا تجھ کو ہم نے کہاں کہاں ڈھونڈا ہم نے راتوں کو جاگ کر اکثر ٹوٹے خوابوں کا ہر نشاں ڈھونڈا ذات کا اپنی کچھ سرا نہ ملا خود کو ہم نے ہے کل جہاں ڈھونڈا عشق حاصل کبھی ہوا ہی نہیں عمر بھر تجھ کو جان جاں ڈھونڈا

خاک ہو کر بھی آسماں ڈھونڈا Read More »