کہاں کا صبر سو سو بار دیوانوں کے دل ٹوٹے
غزل کہاں کا صبر سو سو بار دیوانوں کے دل ٹوٹے شکست دل کے خدشے ہی سے نادانوں کے دل ٹوٹے گرے ہیں ٹوٹ کر کچھ آئنے شاخوں کی پلکوں سے یہ کس کی آہ تھی کیوں شبنمستانوں کے دل ٹوٹے اس آرائش سے تو کچھ اور ابھری ان کی ویرانی ببولوں پر بہار آئی […]
کہاں کا صبر سو سو بار دیوانوں کے دل ٹوٹے Read More »