MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کہاں کا صبر سو سو بار دیوانوں کے دل ٹوٹے

غزل کہاں کا صبر سو سو بار دیوانوں کے دل ٹوٹے شکست دل کے خدشے ہی سے نادانوں کے دل ٹوٹے گرے ہیں ٹوٹ کر کچھ آئنے شاخوں کی پلکوں سے یہ کس کی آہ تھی کیوں شبنمستانوں کے دل ٹوٹے اس آرائش سے تو کچھ اور ابھری ان کی ویرانی ببولوں پر بہار آئی […]

کہاں کا صبر سو سو بار دیوانوں کے دل ٹوٹے Read More »

کشکول ہے تو لا ادھر آ کر لگا صدا

غزل کشکول ہے تو لا ادھر آ کر لگا صدا میں پیاس بانٹتا ہوں ضرورت نہیں تو جا میں شہر شہر خوابوں کی گٹھری لیے پھرا بے دام تھا یہ مال پہ گاہک کوئی نہ تھا پتھر پگھل کے ریت کے مانند نرم ہے درد اتنی دیر ساتھ رہا راس آ گیا سینوں میں اضطراب

کشکول ہے تو لا ادھر آ کر لگا صدا Read More »

نگاہوں میں یہ کیا فرما گئی ہو

غزل نگاہوں میں یہ کیا فرما گئی ہو مری سانسوں کے تار الجھا گئی ہو در و دیوار میں ہے اجنبیت میں خود بھی کھو گیا تم کیا گئی ہو پریشاں ہو گئے تعبیر سے خواب کہ جیسے کچھ بدل کر آ گئی ہو تمنا انتظار دوست کے بعد کلی جیسے کوئی مرجھا گئی ہو

نگاہوں میں یہ کیا فرما گئی ہو Read More »

اے دل نشیں تلاش تری کو بہ کو نہ تھی

غزل اے دل نشیں تلاش تری کو بہ کو نہ تھی اپنے سے اک فرار تھا وہ جستجو نہ تھی اظہار نارسا سہی وہ صورت جمال آئینۂ خیال میں بھی ہو بہو نہ تھی کیا سحر تھا کہ ہنستے ہوئے جان دے گئے وہ بھی کہ جن کو تاب غم آرزو نہ تھی کیا جانے

اے دل نشیں تلاش تری کو بہ کو نہ تھی Read More »

اب یہ آنکھیں کسی تسکین سے تابندہ نہیں

غزل اب یہ آنکھیں کسی تسکین سے تابندہ نہیں میں نے رفتہ سے یہ جانا ہے کہ آئندہ نہیں تیرے دل میں کوئی غم میرا نمائندہ نہیں آگہی تیری مژہ پر ابھی رخشندہ نہیں دل ویراں دم عیسیٰ ہے گئے وقت کی یاد کون سا لمحۂ رفتہ ہے کہ پھر زندہ نہیں تو بھی چاہے

اب یہ آنکھیں کسی تسکین سے تابندہ نہیں Read More »

گماں تھا یا تری خوشبو یقین اب بھی نہیں

غزل گماں تھا یا تری خوشبو یقین اب بھی نہیں نہیں ہوا پہ بھروسہ تو کچھ عجب بھی نہیں کھلیں تو کیسے کھلیں پھول اجاڑ صحرا میں سحاب خواب نہیں گریۂ طلب بھی نہیں ہنسی میں چھپ نہ سکی آنسوؤں سے دھل نہ سکی عجب اداسی ہے جس کا کوئی سبب بھی نہیں ٹھہر گیا

گماں تھا یا تری خوشبو یقین اب بھی نہیں Read More »

آنکھوں میں نہاں ہے جو مناجات وہ تم ہو

غزل آنکھوں میں نہاں ہے جو مناجات وہ تم ہو جس سمت سفر میں ہے مری ذات وہ تم ہو جو سامنے ہوتا ہے کوئی اور ہے شاید جو دل میں ہے اک خواب ملاقات وہ تم ہو دن آئے گئے جیسے سرائے میں مسافر ٹھہری رہی آنکھوں میں جو اک رات وہ تم ہو

آنکھوں میں نہاں ہے جو مناجات وہ تم ہو Read More »

دل ہی دل میں سلگ کے بجھے ہم اور سہے غم دور ہی دور

غزل دل ہی دل میں سلگ کے بجھے ہم اور سہے غم دور ہی دور تم سے کون سی آس بندھی تھی تم سے رہے ہم دور ہی دور تم نے ہم کو جب بھی دیکھا شکر بہ لب تھے یا خاموش یوں تو اکثر روئے لیکن چھپ چھپ کم کم دور ہی دور جل

دل ہی دل میں سلگ کے بجھے ہم اور سہے غم دور ہی دور Read More »

رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے

غزل رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے درد پھولوں کی طرح مہکے اگر تو آئے بھیگ جاتی ہیں اس امید پہ آنکھیں ہر شام شاید اس رات وہ مہتاب لب جو آئے ہم تری یاد سے کترا کے گزر جاتے مگر راہ میں پھولوں کے لب سایوں کے گیسو آئے وہی لب تشنگی

رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے Read More »

کچھ بس نہ چلا جذبۂ خود کام کے آگے

غزل کچھ بس نہ چلا جذبۂ خود کام کے آگے جھکنا ہی پڑا اس بت بدنام کے آگے اک اور بھی حسرت ہے پس حسرت دیدار اک اور بھی آغاز ہے انجام کے آگے آ اور ادھر کوئی تجلی کی کرن پھینک بیٹھے ہیں گدا تیرے در و بام کے آگے یہ عشق ہے بازیچۂ

کچھ بس نہ چلا جذبۂ خود کام کے آگے Read More »