MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہر ایک شب کے گزرنے پہ مسکراتی ہے

غزل ہر ایک شب کے گزرنے پہ مسکراتی ہے یہ زندگی یوں مجھے حوصلہ دلاتی ہے تمہارے ہاتھوں نے تھاما ہے جب سے ہاتھ مرا ہر ایک سمت سے ٹھنڈی ہوا ہی آتی ہے جدھر بھی جاؤں کسی سمت بھی چلوں چاہے ہے جو بھی راہ مجھے تم سے ہی ملاتی ہے سنیں گے تجھ […]

ہر ایک شب کے گزرنے پہ مسکراتی ہے Read More »

جس طرح بہر اک قطرے قطرے میں ہے

غزل جس طرح بہر اک قطرے قطرے میں ہے ایک کہانی چھپی نقطے نقطے میں ہے جب سے ہاتھوں میں میں نے اٹھایا قلم تذکرہ بس ترا پنے پنے میں ہے یہ ملن کی گھڑی یوں ہوئی مختصر سمٹی جیسے صدی لمحے لمحے میں ہے جب سے ہم راز تجھ کو ہے میں نے کیا

جس طرح بہر اک قطرے قطرے میں ہے Read More »

سحر کے بعد بھی جو لوگ جاگنے سے رہے

غزل سحر کے بعد بھی جو لوگ جاگنے سے رہے کسی بھی خواب کی تعبیر دیکھنے سے رہے ہٹا رہے ہیں سبھی راہ سے مری پتھر وہ میرے پاؤں کی زنجیر کاٹنے سے رہے ہو دو قدم کی ہی دوری پہ تم کھڑے لیکن قدم بڑھا کے مرا ہاتھ تھامنے سے رہے میں آئنہ ہوں

سحر کے بعد بھی جو لوگ جاگنے سے رہے Read More »

سچ کی خاطر بتا تو لڑا ہے کبھی

غزل سچ کی خاطر بتا تو لڑا ہے کبھی حق پہ رہ کر قدم بھر چلا ہے کبھی کیوں کمی تیری محسوس ہوگی مجھے ساتھ میرے کہاں تو رہا ہے کبھی مجھ سے پہلے بھی تو ہوں گے ناقص یہاں شور اتنا مگر کیا مچا ہے کبھی ہو کے آزاد بھی میں تو ہوں قید

سچ کی خاطر بتا تو لڑا ہے کبھی Read More »

بھولنا جب بھی تجھ کو چاہا ہے

غزل بھولنا جب بھی تجھ کو چاہا ہے تو مرے پاس لوٹ آیا ہے مجھ کو درکار اپنی تھی مدحت اس طلب میں ہی سب گنوایا ہے اس کو ڈھونڈا گلی گلی میں نے وہ جو دل میں مرے سمایا ہے تو بنے گا مرا ہی بالآخر دل کو اس بات پر منایا ہے ہے

بھولنا جب بھی تجھ کو چاہا ہے Read More »

بنا سحر کے اجالے مجھے قبول نہیں

غزل بنا سحر کے اجالے مجھے قبول نہیں ترے یہ جھوٹے دلاسے مجھے قبول نہیں نہ تو مداری ہے نہ میں ترا جمورا ہوں یہ آئے دن کے تماشے مجھے قبول نہیں بڑھا کے ہاتھ کو تم نے مجھے گرایا ہے اگر یہی ہیں سہارے مجھے قبول نہیں کسی کے ذہن کی جو کھڑکیاں نہ

بنا سحر کے اجالے مجھے قبول نہیں Read More »

جو بھی کہنا تھا وہ ان کہا رہ گیا

غزل جو بھی کہنا تھا وہ ان کہا رہ گیا دل کا ارمان دل میں دبا رہ گیا عمر بھر اس کی جانب میں چلتی رہی پھر بھی میلوں کا یہ فاصلہ رہ گیا یوں تو دنیا میں سب کچھ ہے مجھ کو ملا صرف تو ہی تو مجھ سے جدا رہ گیا اپنی کہتا

جو بھی کہنا تھا وہ ان کہا رہ گیا Read More »

کاش مل جائے مرے دل کو محبت تیری

غزل کاش مل جائے مرے دل کو محبت تیری مجھ کو ہر شے سے زیادہ ہے ضرورت تیری اتنی عجلت میں نہ کر عمر کے وعدے مجھ سے دو گھڑی بیٹھ کہ میں دیکھ لوں صورت تیری چاہے جتنا بھی تو چھپ جائے مری نظروں سے میں نے ہر ایک میں دیکھی ہے شباہت تیری

کاش مل جائے مرے دل کو محبت تیری Read More »

ہم جسے سمجھتے تھے سعیٔ رائیگاں یارو

غزل ہم جسے سمجھتے تھے سعیٔ رائیگاں یارو اب اسی سے ملنا ہے اپنا کچھ نشاں یارو رک سکے تو ممکن ہے نغمگی میں ڈھل جائے اٹھ رہی ہے سینوں میں شورش‌ فغاں یارو کیا خیال ہے تم کو کیا ملال ہے تم کو پوچھتا کوئی تم سے کیوں ہوں سرگراں یارو برق سے تصادم

ہم جسے سمجھتے تھے سعیٔ رائیگاں یارو Read More »

ابھی مکاں میں ابھی سوئے لامکاں ہوں میں

غزل ابھی مکاں میں ابھی سوئے لامکاں ہوں میں ترے خیال تری دھن میں ہوں جہاں ہوں میں کلی کلی متبسم ہے آرزوؤں کی قدم قدم پہ محبت میں کامراں ہوں میں نوا نوا میں مری زندگی مچلتی ہے رباب حسن و محبت پہ نغمہ خواں ہوں میں مرا تجسس پیہم ہے زندگی آموز مجھے

ابھی مکاں میں ابھی سوئے لامکاں ہوں میں Read More »