MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

حد جنوں کے پار بھی جاتی رہی ہوں میں

غزل حد جنوں کے پار بھی جاتی رہی ہوں میں دامن سے اپنے آگ بجھاتی رہی ہوں میں سب دیکھتے رہے ہیں تماشا کھڑے کھڑے ہنس کر بدن کی خاک اڑاتی رہی ہوں میں زنجیروں میں مری کوئی جھنکار تو نہیں اشکوں سے اپنے شور مچاتی رہی ہوں میں رکھا ہے سب نے قید قفس […]

حد جنوں کے پار بھی جاتی رہی ہوں میں Read More »

لب کو تیرے مے کشی دے جاؤں گی

غزل لب کو تیرے مے کشی دے جاؤں گی اور زباں کو شاعری دے جاؤں گی یوں نظر انداز نہ کر ہم نشیں تیری پلکوں پر نمی دے جاؤں گی راس نہ آئے گی تجھ کو بزم خاص انجمن کو وہ کمی دے جاؤں گی خالی ہوگا دل کا جب کشکول تب میں انا کو

لب کو تیرے مے کشی دے جاؤں گی Read More »

اب تلک ٹھہری ہوئی ہے زندگی اپنی جگہ

غزل اب تلک ٹھہری ہوئی ہے زندگی اپنی جگہ مجھ سے کب ہنس کر ملی ہے زندگی اپنی جگہ آنسوؤں کو لے کے آنکھوں میں کبھی مسکاتی ہے اور کبھی گل سا کھلی ہے زندگی اپنی جگہ دشت صحرا میں گزر کا کوئی پیمانہ نہیں وحشتوں کی آگہی ہے زندگی اپنی جگہ دیکھ لو کتنا

اب تلک ٹھہری ہوئی ہے زندگی اپنی جگہ Read More »

تمام رات مسلسل ایاغ چلتا رہا

غزل تمام رات مسلسل ایاغ چلتا رہا درون قلب مسلسل چراغ جلتا رہا عجب کہانیاں بنتی ہیں نصف راتوں میں شباب نو سے مسلسل شرار ابلتا رہا مٹاتی تیرگیٔ شب کیا چاندنی آخر غم دغا میں مسلسل جو چاند ڈھلتا رہا یہ ان کا دعویٰ مسیحائی کا ہے مکر و فریب لپٹ کے ان سے

تمام رات مسلسل ایاغ چلتا رہا Read More »

جو سوچتا ہے تو ویسا ہی حال تھوڑی ہے

غزل جو سوچتا ہے تو ویسا ہی حال تھوڑی ہے سمجھنا جھوٹ کو بھی سچ کمال تھوڑی ہے ہے کچھ ہی لمحے کو یہ ظلمتوں کا ڈیرا بھی کہ زیست تیرگی بھی ماہ و سال تھوڑی ہے بہت غرور ہے کیوں تجھ کو تیری شہرت پر کہ شہرتوں کی فقط تو مثال تھوڑی ہے ہیں

جو سوچتا ہے تو ویسا ہی حال تھوڑی ہے Read More »

اس سے دامن کو چھڑانا بھی نہیں چاہتے ہم

غزل اس سے دامن کو چھڑانا بھی نہیں چاہتے ہم اس قدر خود کو ستانا بھی نہیں چاہتے ہم ہم نے دل سے اسے باہر تو نکالا ہے مگر اس کو ویرانہ بنانا بھی نہیں چاہتے ہم میں ہوں کھنڈر در و دیوار بھی گر جائیں گے اس کو دلہن سا سجانا بھی نہیں چاہتے

اس سے دامن کو چھڑانا بھی نہیں چاہتے ہم Read More »

تو ہم سے مل تو تجھ کو حال دل اپنا سنا ڈالیں

غزل تو ہم سے مل تو تجھ کو حال دل اپنا سنا ڈالیں کہے تو جام میں خون جگر اپنا ملا ڈالیں ترس کھا مجھ پہ اور وقت جنوں یوں نہ رلا مجھ کو وگرنہ آنسوؤں سے اپنے تیرا غم جلا ڈالیں حواسوں میں ہمارے اس کو اب تو زندہ رہنے دے کہیں ایسا نہ

تو ہم سے مل تو تجھ کو حال دل اپنا سنا ڈالیں Read More »

عشق میں ایسا اک مقام بھی ہو

غزل عشق میں ایسا اک مقام بھی ہو خامشی جس میں ہم کلام بھی ہو ایسا افسانہ کوئی لکھا جائے جس میں لکھا مرا پیام بھی ہو کیوں نظر بند ہوں بیاں میرے کچھ بیاں میرے خاص و عام بھی ہو دل ناداں ذرا ادب سے دھڑک پیار کا تھوڑا احترام بھی ہو گل تازہ

عشق میں ایسا اک مقام بھی ہو Read More »

ان کے آنے سے بدل جاتی ہے صورت میری

غزل ان کے آنے سے بدل جاتی ہے صورت میری ایک آہٹ سے ہی بڑھ جاتی ہے نکہت میری کیسے بتلاؤں کے وہ مرمری مورت کیا ہے پردہ ہٹتے ہی بدل جاتی ہے نیت میری وہ گزرتی ہے مری خواب کی گلیوں سے بھی وصل کی رات میں بڑھ جاتی ہے الفت میری پیکر حسن

ان کے آنے سے بدل جاتی ہے صورت میری Read More »

پروفیسر ڈاکٹر سید محمد اقبال شاہ ایک ہنرمند نظم نگار

پروفیسر ڈاکٹر سید محمد اقبال شاہ ایک ہنرمند نظم نگار شاعر علی شاعرؔ(کراچی)   غزل میں اگر سات شعر ہیں تو ہر ایک شعر میں الگ خیال وفلسفہ پیش کیا جاتا ہے، مگر نظم کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو اور وہ کتنے ہی مصرعوں پر مشتمل ہو، اُس کے تمام مصارع میں ایک ہی

پروفیسر ڈاکٹر سید محمد اقبال شاہ ایک ہنرمند نظم نگار Read More »