MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

پھر کوئی جشن مناؤ کہ ہنسی آ جائے

غزل پھر کوئی جشن مناؤ کہ ہنسی آ جائے گیت اک ایسا سناؤ کہ ہنسی آ جائے دم گھٹا جاتا ہے اس رات کی تاریکی میں کوئی بستی ہی جلاؤ کہ ہنسی آ جائے تم تو بے لوث ہو مخلص ہو کرم فرما ہو اتنے نزدیک نہ آؤ کہ ہنسی آ جائے کام کرنا ہے […]

پھر کوئی جشن مناؤ کہ ہنسی آ جائے Read More »

نظر نواز نظاروں کی یاد آتی ہے

غزل نظر نواز نظاروں کی یاد آتی ہے شکستہ دل کے سہاروں کی یاد آتی ہے کبھی نگاہ محبت نے جس کو چھیڑا تھا اب ان رباب کے تاروں کی یاد آتی ہے نگاہ پڑتی ہے جب بھی کسی شگوفے پر تمہارے ساتھ بہاروں کی یاد آتی ہے جو مل کے چھوٹ گئے زندگی کی

نظر نواز نظاروں کی یاد آتی ہے Read More »

شعور کیف و خوشی ہے ذرا ٹھہر جاؤ

غزل شعور کیف و خوشی ہے ذرا ٹھہر جاؤ وفور غم میں کمی ہے ذرا ٹھہر جاؤ نتیجہ جہد مسلسل کا آگے کیا ہوگا محل فکر یہی ہے ذرا ٹھہر جاؤ کشاکش غم دوراں میں زندہ رہنے کی تمہی سے داد ملی ہے ذرا ٹھہر جاؤ یہ بات تم سے کوئی اور کہہ نہیں سکتا

شعور کیف و خوشی ہے ذرا ٹھہر جاؤ Read More »

مجھ کو جہاں میں کوئی دل آرا نہیں ملا

غزل مجھ کو جہاں میں کوئی دل آرا نہیں ملا میں خود بھی اپنے غم کا شناسا نہیں ملا اپنی طلب کے اپنی غرض کے ملے ہیں لوگ میری طلب کو دیکھنے والا نہیں ملا پھرتا رہا ہوں کوئے وفا میں تمام عمر لیکن کہیں بھی کوئی شناسا نہیں ملا میرے عیوب پر رہی ہر

مجھ کو جہاں میں کوئی دل آرا نہیں ملا Read More »

حسرتیں بن کر نگاہوں سے برس جائیں گے ہم

غزل حسرتیں بن کر نگاہوں سے برس جائیں گے ہم ایک دن آئے گا جب ان کو بھی یاد آئیں گے ہم چاندنی بن کر کبھی دامن پہ لہرائیں گے ہم بن کے آنسو گاہ پلکوں پر ٹھہر جائیں گے ہم شام کو جام مسرت بھر کے چھلکائیں گے ہم صبح کو دور چراغ بزم

حسرتیں بن کر نگاہوں سے برس جائیں گے ہم Read More »

حوصلے کی کمی سے ڈرتا ہوں

غزل حوصلے کی کمی سے ڈرتا ہوں دور کی روشنی سے ڈرتا ہوں دیکھ کر بستیوں کی ویرانی اب تو ہر آدمی سے ڈرتا ہوں عقل تاروں کو چھو کے آتی ہے اور میں چاندنی سے ڈرتا ہوں پہلے ڈرتا تھا تیرگی سے میں اور اب روشنی سے ڈرتا ہوں میری بے چارگی تو یہ

حوصلے کی کمی سے ڈرتا ہوں Read More »

زندگی کا سفر ختم ہوتا رہا تم مجھے دم بہ دم یاد آتے رہے

غزل زندگی کا سفر ختم ہوتا رہا تم مجھے دم بہ دم یاد آتے رہے میری ویران پلکوں پہ دن ڈھلتے ہی کچھ ستارے مگر جگمگاتے رہے لٹ گئی زندگی بجھ گئے دیپ بھی دور تک پھر نہ باقی رہی روشنی اس اندھیرے میں بھی ہم تری یاد سے اپنی ویران محفل سجاتے رہے تم

زندگی کا سفر ختم ہوتا رہا تم مجھے دم بہ دم یاد آتے رہے Read More »

میرے محبوب مرے دل کو جلایا نہ کرو

غزل میرے محبوب مرے دل کو جلایا نہ کرو ساز چھیڑا نہ کرو گیت سنایا نہ کرو جاؤ آباد کرو اپنی تمناؤں کو مجھ کو محفل کا تماشائی بنایا نہ کرو میری راہوں میں جو کانٹے ہیں تو کیوں پھول ملیں میرے دامن کو الجھنے دو چھڑایا نہ کرو تم نے اچھا ہی کیا ساتھ

میرے محبوب مرے دل کو جلایا نہ کرو Read More »

کوئی چھٹی نظر نہیں آتی

مرزا غالب کی روح سے معذرت کے ساتھ غزل کوئی امید بر نہیں آتی کوئی چھٹی نظر نہیں آتی حلوہ ملنا ہے پر نہیں ملتا چائے آنی ہے پر نہیں آتی جو پڑوسی کے گھر میں آئی ہے وہ مٹھائی ادھر نہیں آتی دودھ گھی گر نظر نہیں آتا بو بھی اس کی مگر نہیں

کوئی چھٹی نظر نہیں آتی Read More »

گو کسی کا پیار ہوں دستار ہوں ایمان ہوں

غزل گو کسی کا پیار ہوں دستار ہوں ایمان ہوں اپنے گھر میں میں مگر بے کار سا سامان ہوں شیشہ گر تو نے نفاست سے تراشا ہے مجھے کیا خبر تجھ کو کہ اب پتھر کا اک میدان ہوں کوئی پڑھتا ہے مجھے شام و سحر یوں با وضو اور کسی کے واسطے سادہ

گو کسی کا پیار ہوں دستار ہوں ایمان ہوں Read More »